سندور-2 بھارت اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کا پاکستان مخالف نیا خفیہ منصوبہ بے نقاب

سندور-2 بھارت اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کا پاکستان مخالف نیا خفیہ منصوبہ بے نقاب

عالمی سکیورٹی کے بدلتے ہوئے تناظر میں بھارت اور اسرائیل کی جانب سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک نئی اور خطرناک صف بندی کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ‘معرکہ حق’ میں ناکامی کے بعد مودی سرکار نے اسرائیل کے اشتراک سے ‘سندور-2’ تخریبی منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف ‘پراکسی وار’ کے لیے استعمال کرنا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت جو کل تک کابل حکومت کو مسترد کرتا رہا ہے، آج وہاں ‘تکنیکی مشن’ کے نام پر مکمل سفارتی اثر و رسوخ حاصل کر چکا ہے۔بھارت خطے میں پاکستان مخالف پالیسی کو نئے انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔

افغانستان میں اس کی سفارتی واپسی اور مسلسل روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئی دہلی زمینی حقائق سے فائدہ اٹھا کر افغانستان کے طالبان ریجیم اور فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ذریعے دہشتگردی پھیلا کر پاکستان کی داخلی سلامتی کو چیلنج کرنے کے درپے ہے۔

جس طالبان حکومت کو کل تک بھارت “پاکستانی پراکسی” قرار دے کر مسترد کرتا تھا، آج اسی کابل کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات “تکنیکی مشن” سے بڑھ کر مکمل سفارتی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم کے اسرائیل کے دورے کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی و انٹیلی جنس تعاون محض دوطرفہ نہیں رہا بلکہ اسے افغانستان جیسی پراکسیز کی مدد سے پاکستان کے خلاف leverage کے طور پر استعمال کیا جائیگا۔پاکستان کے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ اور افغان طالبان کا بطور کٹھ پتلی استعمال اس سلسلے میں پاکستان کے موقف کی توثیق کرتا ہے۔

بھارت ماضی میں بھی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر عالمی سطح پر سوالات کی زد میں رہا ہے؛ کلبھوشن یادیو کیس جیسے شواہد پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ تخریبی نیٹ ورکس کو بھارتی سرپرستی حاصل رہی ہے۔

مزید پڑھیں: مودی نے آپریشن سندور میں عبرتناک شکست سے سبق سیکھ لیا، پاکستان پر براہ راست الزامات لگانے سے گریزاں

طالبان حکومت سے بھارت کے بڑھتے ہوئے روابط اس دعوے کی نفی کرتے ہیں کہ نئی دہلی محض ’’انسانی امداد‘‘ تک محدود ہے۔ خطے کے سکیورٹی تجزیہ کار اسے پاکستان مخالف قوتوں کی نئی صف بندی قرار دے رہے ہیں۔

افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

خطے کے امن کی تباہی کی تمام تر ذمہ داری ان عناصر پر ہوگی جو دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور وسائل فراہم کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *