ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں اور اسی سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ایرانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کا یہ تیسرا دور ہے، تاہم اس بار بات چیت جنیوا میں ہو رہی ہے جو بین الاقوامی سفارتکاری کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی وفد کی سربراہی عباس عراقچی کر رہے ہیں جبکہ امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف سمیت اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازع کا واحد مؤثر حل سفارتی مذاکرات ہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اس معاملے کو پرامن انداز میں حل کرنے کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے اور موجودہ مذاکرات کو ایک اہم موقع سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو کسی قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے، تاہم معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کے پاس دیگر متبادل راستے بھی موجود ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جوہری تنازع کا حل سفارتکاری کے ذریعے چاہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکام آئندہ دور میں مثبت اور سنجیدہ رویہ اختیار کریں گے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنیوا میں ہونے والا یہ دورِ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا فریقین کسی نئے فریم ورک یا عبوری معاہدے تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔