مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، مسلم مخالف بیانیہ کھل کر سامنے آگیا

مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، مسلم مخالف بیانیہ کھل کر سامنے آگیا

مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ کے بعد اسرائیل اور بھارت کا مسلم مخالف بیانیہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں اور حالیہ بیانات نے عالمی سطح پر ایک نئے سفارتی اور نظریاتی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ابھرتی ہوئی شراکت داری کو ایک ایسے فریم ورک میں پیش کیا جا رہا ہے جسے مسلم دنیا میں “اسلام مخالف بیانیہ” قرار دیا جا رہا ہے، اور جس سے عالمی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ مل کر ایک “آہنی اتحاد” قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ نیتن یاہو کے مطابق یہ مجوزہ اتحاد انتہا پسندانہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تشکیل دیا جائے گا۔

تاہم مبصرین اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی تقریر میں استعمال کی گئی زبان نے انتہا پسندی کے تصور کو مجموعی طور پر اسلام کے ساتھ جوڑنے کا تاثر دیا، جس پر مسلم اکثریتی ممالک میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین اور مختلف سیاسی حلقوں نے ان بیانات کو اشتعال انگیز اور تقسیم پیدا کرنے والا قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نا ہونے سے ہمیں فرق نہیں پڑتا،ترجمان دفتر خارجہ

عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد سیاسی رہنماؤں نے بھی ان بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہذیبی یا نظریاتی تصادم پر مبنی ایسی بیان بازی نہ صرف مذہبی تناؤ کو ہوا دے سکتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر عدم اعتماد اور کشیدگی میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ عالمی اتحادوں کو مذہبی رنگ دینا عالمی سلامتی کو مضبوط بنانے کے بجائے مزید تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔ موجودہ نازک جغرافیائی سیاسی حالات میں اس نوعیت کی زبان سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچانے اور مختلف معاشروں کے درمیان خلیج کو وسیع کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذہب سے جڑی بیان بازی عوامی تاثر، عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی سفارت کاری پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، اور ایسے میں عالمی قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مکالمے، تحمل اور جامع بیانیے کو فروغ دے تاکہ عالمی امن کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: “ بھارت کو عالمی سطح پر مذاق بنا دیا”،انڈین کانگریس کی اے آئی سمٹ کے معاملے پر ب مودی سرکار پر شدید تنقید

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *