بھارت سے ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ کی میزبانی چھن جانے کا خطرہ ہے۔
انٹرنیشنل بلیئرڈ اینڈ اسنوکر فیڈریشن نے بھارت کو آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے نہ دینے پر اسنوکر چیمپئن شپ کی میزبانی بھارت سے واپس لی جا سکتی ہے۔
پاکستان بلیئرڈ اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے صدر عبدالقادر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئی بی ایس ایف نےکہا ہے پاکستانیوں کو ویزے نہ ملے تو چیمپئن شپ دوسرے ملک منتقل کر دیں گے۔
اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی بی ایس ایف کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا، 2024ء میں بھی بھارت کے ویزے نہ دیے جانے سے پاکستانی کھلاڑی ایونٹ میں نہیں جا سکے تھے۔
ایسوسی ایشن کے صدرعبدالقادر نے یہ بھی بتایا کہ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ نومبر میں بھارت میں شیڈول ہے، بھارت کے ویزے ملنے کے بعد ہم حکومتِ پاکستان کی ہدایت منتظر ہوں گے، حکومت بھارت جانے کا کہے گی تو بھارت جائیں گے ورنہ نہیں جائیں گے۔
اس صورتحال نے نہ صرف پاکستانی کھلاڑیوں بلکہ شائقینِ اسنوکر کے لیے بھی تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ بھارت میں ایونٹ کے انعقاد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
اب سب کی نظریں حکومت پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقبل کے فیصلہ پر ہیں، تاکہ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ بغیر کسی رکاوٹ کے منعقد ہو سکے اور کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی پیش کر سکیں۔