وفاقی دارالحکومت میں بچوں کو جسمانی سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، دینی مدارس، بورڈنگ ہاؤسزاور بحالی مراکز میں بچوں سے ہر قسم کے ناروا سلوک کو قابلِ سزا جرم قرار د یا گیا۔
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری جسمانی سزا کی ممانعت ایکٹ 2021 میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، دینی مدارس، بورڈنگ ہاؤسز، فوسٹر کیئر، ورک پلیسز اور بحالی مراکز میں بچوں سے ہر قسم کے ناروا سلوک کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔
سینیٹ سے منظور شدہ ترمیمی قانون کے مطابق بچے کو ڈرانے دھمکانے پر دو سال قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی، جبکہ مار پیٹ یا چوٹ پہنچانے کی صورت میں ایک سال قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی۔ اگر چوٹ سنگین نوعیت کی ہو یا ہڈی ٹوٹ جائے تو سزا چوٹ کی نوعیت کے مطابق مقرر کی جائے گی۔
قانون کے تحت استاد یا مدرسہ عملہ اگر بلاجواز بچے پر ہاتھ اٹھائے تو اسے 3 ماہ قید، 500 روپے جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا ہوگا۔ بچے کو ہاتھ یا کسی آلے، چھڑی، بیلٹ، جوتے یا لکڑی کے چمچ سے مارنا جرم قرار دیا گیا ہے۔
تھپڑ، چانٹا، پٹائی، لات مارنا، جھنجھوڑنا، پھینکنا، نوچنا، چٹکی کاٹنا، بال یا کان کھینچنا بھی جسمانی سزا تصور ہوگا۔ طلبا پر تشدد کی شکایات کی انکوائری وزارتِ تعلیم کی قائم کردہ تین رکنی کمیٹی کرے گی جس میں کم از کم ایک خاتون رکن کی موجودگی لازمی ہوگی،دینی مدارس سے متعلق شکایات وفاق المدارس کی مقررہ کمیٹی سنے گی، جبکہ نجی و دیگر اداروں کے معاملات وزارتِ انسانی حقوق دیکھے گی۔