فرانس کی جانب سے بھارت کو رافیل لڑاکا طیاروں کے بنیادی سافٹ ویئر سورس کوڈ تک رسائی دینے سے صاف انکار کر دیا گیا ہے، جسے عالمی دفاعی حلقوں میں بھارت کے لیے ایک بڑی سبکی اور اسٹریٹجک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس فیصلے نے بھارتی فضائی خودمختاری اور دفاعی شعبے میں تکنیکی آزادی کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رافیل طیارے کے حساس نظاموں میں شامل اہم اجزاء کا مکمل کنٹرول فرانس نے اپنے پاس ہی رکھا ہے۔ فرانسیسی حکام کا موقف ہے کہ ان سسٹمز کی حساس نوعیت اور قومی سلامتی کے پیشِ نظر کسی بھی بیرونی فریق، بشمول بھارت، کو سورس کوڈ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ سورس کوڈ تک رسائی نہ ہونے کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ بھارت ان طیاروں میں اپنی مرضی کے مطابق کوئی بڑی تکنیکی تبدیلی یا اپ گریڈیشن آزادانہ طور پر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
اب بھارت کو کسی بھی نئے ہتھیار، جدید میزائل سسٹم یا مقامی دفاعی آلات کے انضمام کے لیے ہر بار فرانسیسی منظوری اور تکنیکی مدد کا محتاج رہنا ہوگا۔
اس پیش رفت نے اربوں ڈالرز کے اس سودے کے بعد بھارتی فضائیہ کی آپریشنل آزادی کو محدود کر دیا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر مودی حکومت کی بڑی ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سورس کوڈ تک رسائی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت ان طیاروں میں اپنی مرضی کے مطابق بڑی تکنیکی تبدیلیاں یا اپ گریڈ آزادانہ طور پر نہیں کر سکے گا، اور کسی بھی نئے ہتھیار یا سسٹم کے انضمام کے لیے اسے فرانسیسی منظوری درکار ہوگی۔ اس میں جدید میزائل سسٹمز اور مقامی دفاعی منصوبے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: مہمند سیکٹر: تحریکِ طالبان افغانستان کی جارحیت پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کی بھر پور جوابی کاروائی، ٹی ٹی اے پوسٹ تباہ