امریکا اور ایران کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی کے باوجود معاملات بہتری کیجانب نہ آنے کے باعث جنوبی کوریا نے ایران کو انسانی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترک میڈیا کیمطابق مقامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ یہ امداد متاثرہ علاقوں میں صورتِ حال کو بہتر بنانے میں مدد دے گی۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کو 5 لاکھ ڈالرز کی امداد انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے ذریعے پہنچائی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایران جنگ میں اب تک 3 ہزار 300 سے زائد افراد جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔
اس سے قبل جنوبی کوریا نے لبنان کو 2 ملین ڈالرز کی امداد بھیجی تھی جسے اسرائیلی حملوں میں شدید نقصان پہنچا تھا ۔
یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جنگ شروع ہونے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلی مرتبہ براہِ راست مذاکرات بھی ہوئے، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات کسی مکمل معاہدے پر نہیں پہنچ سکے تاہم مذاکرات کے حوالے سے پیشرفت جاری ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے منگل کے روز متحارب فریقوں سے اپیل کی کہ وہ امن کی جانب ایک جرات مندانہ قدم اٹھائیں، کیونکہ دنیا انسانی حقوق کے تحفظ کے اصولوں اور تاریخی تجربات سے سبق سیکھنے کی شدید خواہش رکھتی ہے۔
مشرقی ایشیائی ملک جنوبی کوریا بھی ایران-امریکہ-اسرائیل تنازع سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، کیونکہ اس جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے ایشیائی ممالک کو ہونے والی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
اس صورتحال کے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے صدر لی کی حکومت 17.7 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
مزید برآں، سیئول نے الجزائر اور لیبیا کے لیے خصوصی ایلچی بھی تعینات کیے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران سپلائی کے متبادل راستوں کی تلاش کے لیے جمہوریہ کانگو میں بھی ایک اور ایلچی بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔