امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع اب اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چکا ہے۔
فاکس بزنس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو ’بہت قریب سے ختم ہوتا‘ دیکھ رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ تہران اب معاہدہ کرنے کے لیے شدید دباؤ میں ہے۔
سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی کی کوششوں کو ’ شاندار کارکردگی‘ قرار دیا اور اشارہ دیا کہ امریکی اور ایرانی وفود اگلے 2 روز میں دوبارہ اسلام آباد میں میز پر بیٹھ سکتے ہیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ان مذاکرات کے حوالے سے مثبت توقعات کا اظہار کیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ برسوں کی بداعتمادی راتوں رات ختم نہیں کی جا سکتی۔
دوسری جانب، میدانِ جنگ اور معاشی محاذ پر دباؤ انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کی 90 فیصد معیشت کا سہارا بننے والی سمندری تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔
گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران ایران سے منسلک 8 آئل ٹینکرز کو روکا گیا ہے، جس کا مقصد تہران کو مذاکرات کی میز پر لچک دکھانے پر مجبور کرنا ہے۔
امریکا کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات کی کامیابی میں سب سے بڑا رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکا ایران سے افزودہ مواد کی منتقلی اور 20 سالہ معطلی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ تہران 3 سے 5 سال کی مدت تجویز کر رہا ہے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے اسے ایک ’سیاسی فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے سمجھوتے کی امید ظاہر کی ہے۔ ادھر لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں اور اقوامِ متحدہ کے امن فوجیوں کی ہلاکت پر برطانیہ، کینیڈا اور جاپان سمیت کئی ممالک نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فوری دشمنی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر عالمی تیل کی مارکیٹ کو کسی حد تک پرسکون کر دیا ہے، جہاں قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔
28 فروری 2026 کو شروع ہونے والا یہ تنازع اب اپنے نازک ترین موڑ پر ہے۔ پاکستان نے اس بحران میں ایک غیر جانبدار اور مؤثر ثالث کے طور پر ابھر کر عالمی برادری کی توجہ حاصل کی ہے۔
’اسلام آباد ڈائیلاگ‘ دراصل وہ واحد راستہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی ’آرٹ آف دی ڈیل‘ حکمتِ عملی اور ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کا امتزاج اس بار ایک نئے علاقائی نظم و نسق کی بنیاد رکھ رہا ہے۔