عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کرایوں کے حوالے سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان

عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کرایوں کے حوالے سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان

عوام کے لیے ایک بڑا ریلیف پیکج متعارف کراتے ہوئے پورے صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو منجمد کر دیا ہے اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہدفی سبسڈی پروگرام کا اعلان کیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے ہاؤس میں اعلیٰ سطحی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی ہے تاکہ کم آمدنی والے شہری عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بڑھتے ہوئے سفری اخراجات سے محفوظ رہیں۔

پریس کانفرنس میں صوبائی وزراء، ٹرانسپورٹرز کے نمائندے اور اعلیٰ سرکاری افسران موجود تھے، جبکہ ڈویژنل کمشنرز اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مشاورت کے بعد بین الاضلاعی اور شہری روٹس پر چلنے والے ٹرانسپورٹرز اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ وہ کرایوں میں اضافہ نہیں کریں گے اور 28 فروری 2026 کی سطح پر برقرار رکھیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے ٹرانسپورٹرز کے تعاون کو قومی مفاد میں اہم قرار دیا اور کہا کہ بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنا ان کی ذمہ داری کا مظاہرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پیٹرول ،ڈیزل مہنگا ہونے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے نیا کرایہ نامہ جاری کر دیا

ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں نے کرایے برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ مشکل معاشی حالات میں شہریوں کی مدد کے لیے ایک اجتماعی فیصلہ ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت روٹ پرمٹس کی بنیاد پر ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی فراہم کرے گی تاکہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے ہونے والے اخراجات کا ازالہ کیا جا سکے اور سروسز کا تسلسل برقرار رہے، سبسڈی میں وفاقی حکومت کی معاونت کے ساتھ صوبائی حکومت کی اضافی مدد بھی شامل ہوگی تاکہ مسافروں پر بوجھ نہ پڑے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں 11 ہزار سے زائد بسیں چل رہی ہیں اور کرایوں کو سبسڈی کے ذریعے برقرار رکھنے پر صوبائی حکومت کو تقریباً 3 سے 4 ارب روپے خرچ کرنے ہوں گے۔

سبسڈی پیکج میں مال بردار گاڑیاں، اسکول وینز اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز بھی شامل ہیں تاکہ اشیائے ضروریہ اور طلبہ کی ٹرانسپورٹ فیس میں اضافہ نہ ہو اور روزمرہ خدمات بلا تعطل جاری رہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبے کے اشتراک سے یہ اقدام ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت سندھ تقریباً 14 ارب روپے کا حصہ ڈالے گا جبکہ ٹرانسپورٹرز، آبادگاروں اور صارفین کے لیے مزید 3 سے 4 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ خطے کی بدلتی صورتحال کے باوجود صوبے میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے اور حکومت عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے بچانے کے لیے مزید ہدفی سبسڈی پر کام کر رہی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *