ایران کے حملے تیز، متحدہ عرب امارات میں 25 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بڑا دعویٰ

ایران کے حملے تیز، متحدہ عرب امارات میں 25 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بڑا دعویٰ

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے باضابطہ طور پر ‘آپریشن وعدہ صادق 4’ کی 97 ویں لہر کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ایک بڑے حملے کے نتیجے میں 25 امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔

 ترجمان پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، یہ کارروائیاں خلیج فارس میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کے خلاف شروع کیے گئے وسیع تر آپریشن کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور ، وزیردفاع امیر ناصر زادہ اور جوہری سائنسدان شہید

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ کویت میں بھی امریکی فوج کے اہم اور خفیہ ٹھکانوں کو بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں امریکی مداخلت اور اسرائیلی جارحیت کا بھرپور جواب دینا ہے۔ ترجمان نے مزید واضح کیا کہ 97 ویں لہر کے دوران کئی تزویراتی اہداف کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے، جس سے دشمن کے دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب، متحدہ عرب امارات اور کویت کی جانب سے ان حملوں کی تصدیق یا تردید کے حوالے سے فی الحال خاموشی اختیار کی گئی ہے، تاہم خلیج کے سمندری راستوں میں دھوئیں کے بادل اور سائرن کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

عالمی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کا 25 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے، تو یہ حالیہ برسوں میں امریکا کے لیے سب سے بڑا جانی نقصان ہوگا، جس کا جواب واشنگٹن انتہائی سخت عسکری کارروائی کی صورت میں دے سکتا ہے۔

ایران کا ‘آپریشن وعدہ صادق’ سیریز کا آغاز گزشتہ برسوں میں اسرائیلی حملوں اور امریکی پابندیوں کے جواب میں ہوا تھا۔ آپریشن کی 97 ویں لہر کا وقت انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ امریکی صدر کے حالیہ الٹی میٹم اور مشرقِ وسطٰی میں بڑھتی ہوئی بحری ناکہ بندی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

مزید پڑھیں:پاسدارانِ انقلاب کا اسرائیل پر بڑا جوابی حملہ: فضائی نگرانی کا نظام تباہ کرنے اور فضائی حدود پر قبضے کا دعویٰ

واضح رہے کہ ایران نے کویت اور یو اے ای جیسے ’اسٹرٹیجک شراکت داروں‘کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی امریکی اڈے کو محفوظ نہیں رہنے دے گا۔ 6 اپریل 2026 کی یہ صبح پوری دنیا کے لیے ایک بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔

Related Articles