امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گئی جب ایک سرکاری تقریب کے دوران ان کی گردن کے دائیں حصے پر نمایاں سرخی نما داغ دیکھے گئے، تقریب میں موجود افراد کی جانب سے بنائی گئی تصاویر اور مناظر ابلاغی ذرائع اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تیزی سے پھیل گئے جس کے بعد مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
تقریب کے دوران صدر معمول کے مطابق شرکا سے ملتے اور گفتگو کرتے رہے تاہم قریب سے لی گئی تصاویر میں گردن پر سرخی واضح دکھائی دی، چند گھنٹوں میں یہ معاملہ سیاسی حلقوں اور عوامی مباحث کا موضوع بن گیا، بعض صارفین نے اسے کسی ممکنہ جلدی بیماری سے جوڑا جبکہ دیگر نے اسے محض عارضی کیفیت قرار دیا۔
اس صورت حال پر وضاحت دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے معالج شان باربیلا نے بتایا کہ صدر اپنی گردن کے دائیں حصے پر ایک عام احتیاطی جلدی مرہم استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث عارضی سرخی ظاہر ہوئی۔
انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاج معمول کا ہے اور اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں، ان کے مطابق مرہم کا استعمال تقریباً ایک ہفتہ قبل شروع کیا گیا تھا اور سرخی چند ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔
معالج نے اس بنیادی جلدی کیفیت کی نوعیت بیان نہیں کی جس کے سبب مرہم استعمال کیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ صدر مجموعی طور پر بہتر صحت میں ہیں اور ان کی روزمرہ مصروفیات معمول کے مطابق جاری ہیں، وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی صدر کے سرکاری شیڈول میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی صدر کے ہاتھوں کی پشت پر نیل کے نشانات کی تصاویر منظر عام پر آئی تھیں، اس موقع پر صدر ٹرمپ نے وضاحت کی تھی کہ مسلسل مصافحہ اور روزانہ اسپرین کے استعمال کے باعث یہ نشانات ظاہر ہوئے، طبی ماہرین کے مطابق عمر رسیدہ افراد میں جلد نسبتاً نازک ہو جاتی ہے جس کے باعث معمولی دباؤ یا ادویات کے اثر سے سرخی یا نیل پڑنا عام بات ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ صدر کی صحت ہمیشہ سے عوامی اور سیاسی بحث کا حصہ رہی ہے، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب کوئی معمولی جسمانی تبدیلی بھی کیمرے کی آنکھ سے محفوظ نہیں رہتی، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بعض افراد نے تشویش کا اظہار کیا جبکہ کئی صارفین نے اسے غیر ضروری ہنگامہ آرائی قرار دیا۔
تاحال سرکاری سطح پر یہی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر کی صحت اطمینان بخش ہے اور وہ اپنے فرائض انجام دینے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہیں، تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی رہنماؤں کی ذاتی صحت بھی عوامی دلچسپی کا اہم موضوع بن چکی ہے۔