ٹرمپ کے زیرِ صدارت بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس، ترکیہ اور قطر کا بڑا فیصلہ

ٹرمپ کے زیرِ صدارت بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس، ترکیہ اور قطر کا بڑا فیصلہ

واشنگٹن میں منعقدہ غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے بعد ترکی اور قطر نے اہم اعلانات کرتے ہوئے جنگ بندی کے بعد غزہ کی صورتحال کو مستحکم بنانے کے لیے اپنے کردار کو مزید واضح کر دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے نمائندوں نے غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے فوجی دستے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت نہ صرف فوجی دستے بھیجنے کے لیے تیار ہے بلکہ فلسطینی پولیس فورس کی صحت، تعلیم اور تربیت میں بھی عملی کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

تاہم ہاکان فیدان نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں غزہ میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبد الرحمان التانی نے اعلان کیا کہ قطر غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں بورڈ آف پیس 20 نکاتی امن منصوبے پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے گا۔

قطری وزیراعظم نے فلسطینی ریاست کے قیام کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قطر ایک ایسے حتمی حل کا حامی ہے جو فلسطینیوں کو ریاست اور بین الاقوامی شناخت فراہم کرے، جبکہ اسرائیل کو سلامتی اور علاقائی انضمام حاصل ہو۔

قابل ذکر ہے کہ اجلاس میں موجود کسی امریکی اہلکار نے براہ راست فلسطینی ریاست کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ دو ریاستی حل طویل عرصے سے امریکی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔ اس کے برعکس، اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی قیادت مسلسل فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتی آ رہی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم پہلے ہی ترکی کی جانب سے غزہ میں فوج بھیجنے کی مخالفت کر چکے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ترکی اور قطر کے اعلانات خطے میں ممکنہ سفارتی صف بندی کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم عملی پیش رفت کا انحصار زمینی صورتحال اور متعلقہ فریقین کے ردعمل پر ہوگا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *