بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع پاکستان کا سب سے بڑا تانبہ اور سونے کا منصوبہ، ریکوڈک، سیکیورٹی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود 2028 میں تجارتی پیداوار شروع کرنے کے ہدف کے قریب ہے۔
متعلقہ حکام اور صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق کثیر ارب ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور ابتدائی تعمیراتی و انجینیئرنگ سرگرمیاں جاری ہیں۔
یہ بھ پڑھیں:پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ’اتار چڑھاؤ‘ کیوں؟، وجہ سامنے آگئی
یہ منصوبہ کینیڈا کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی بارِک گولڈ چلا رہی ہے، جس کے پاس ریکوڈک مائننگ کمپنی میں 50 فیصد حصہ ہے، جبکہ باقی شراکت وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان کے پاس ہے۔ اس شراکت داری کو پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ماضی میں یہی منصوبہ بین الاقوامی ثالثی عدالتوں میں قانونی تنازعات کا شکار رہا تھا۔
منصوبے پر پیش رفت
اگرچہ سرکاری اور کمپنی حکام باضابطہ طور پر سیکیورٹی صورتحال اور ملکیتی ڈھانچے کی پیچیدگیوں پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں، تاہم نجی سطح پر اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ فزیبلٹی اسٹڈیز، انفراسٹرکچر کی تیاری اور فنانسنگ کے انتظامات متوازی طور پر جاری ہیں۔
کمپنی نے اپنے عالمی مشاورتی ادارے برنسوک گولڈ کے ذریعے ایک مختصر بیان میں کہا کہ وہ منصوبے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے اور اپنی عوامی دستاویزات میں باقاعدگی سے اپ ڈیٹس فراہم کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ جائزہ ایک فہرست شدہ کینیڈین کمپنی ہونے کے ناطے قانونی تقاضا بھی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔
فنانسنگ، امریکی قرض اور بڑھتی لاگت
مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی برآمدی مالیاتی ادارے ایکسپورٹ ایمپورٹ بینک آف یونائٹڈ اسٹیٹ کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر کی قرض سہولت دسمبر 2025 میں منظور کی جا چکی ہے، جس سے منصوبے کی ابتدائی ترقیاتی سرگرمیوں کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
تاہم منصوبے کی مجموعی لاگت ابتدائی اندازوں کے 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 7 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی مہنگائی، مشینری اور توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور سیکیورٹی انتظامات پر اضافی اخراجات اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ اسی باعث کئی مقامی نجی معدنی کمپنیوں کی دلچسپی محدود ہو گئی ہے کیونکہ وہ مطلوبہ سطح کی سرمایہ کاری کے لیے درکار مالی استعداد نہیں رکھتیں۔
مقامی معیشت اور روزگار پر اثرات
اخبار کی رپورٹ کے مطابق ریکوڈک مائننگ کمپنی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی تعمیراتی سامان، لاجسٹکس خدمات اور حتیٰ کہ پینے کے منرل واٹر تک کی خریداری بلوچستان کے اندر سے کر رہی ہے تاکہ مقامی کاروبار کو براہ راست فائدہ پہنچے۔
روزگار کے حوالے سے تقریباً 70 فیصد بھرتیاں بلوچستان سے کی گئی ہیں، جن میں کان کے قریبی علاقوں کے نوجوانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر منصوبہ مکمل استعداد سے کام شروع کرتا ہے تو نہ صرف براہ راست بلکہ بالواسطہ طور پر ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں ٹرانسپورٹ، تعمیرات، انجینئرنگ اور سروس سیکٹر شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اگر معاہدے پر شفاف انداز میں عمل درآمد کیا گیا اور صوبے کو مالی و سماجی فوائد حقیقی معنوں میں منتقل ہوئے تو یہ منصوبہ پاکستان کے معدنی شعبے کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ریکوڈک کا مستقبل بلوچستان کے مستقبل سے جڑا ہے، اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو نہ صرف صوبہ بلکہ پورا ملک معدنی دولت کے نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے‘۔