پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور تجربہ کار وکٹ کیپر بیٹر ’سرفراز احمد‘ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ سرفراز احمد نے طویل اور کامیاب کیریئر کے بعد قومی ٹیم کی نمائندگی کو اپنے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے مداحوں، ساتھی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان کرکٹ کیلئے خدمات انجام دیتے ہوئے سرفراز احمد نے مجموعی طور پر ’54‘ ٹیسٹ، ’117‘ ون ڈے انٹرنیشنل اور ’61‘ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ اپنے بین الاقوامی کیریئر کے دوران انہوں نے تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر ’6164‘ رنز بنائے۔ وکٹوں کے پیچھے بطور وکٹ کیپر انہوں نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ’315‘ کیچز پکڑے جبکہ ’56‘ اسٹمپنگز بھی کیں۔
سرفراز احمد نے بطور کپتان بھی پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں اہم مقام حاصل کیا۔ انہوں نے پاکستان ٹیم کی مجموعی طور پر ’100‘ انٹرنیشنل میچز میں قیادت کی اور ان کی قیادت میں ٹیم نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔
ان کے کیریئر کا سب سے بڑا کارنامہ ’2017‘ میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی فتح تھی، جب پاکستان نے ان کی قیادت میں روایتی حریف بھارت کو فائنل میں شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ یہ کامیابی پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے یادگار لمحات میں شمار کی جاتی ہے۔
سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم نے عالمی درجہ بندی میں ’نمبر 1‘ پوزیشن بھی حاصل کی، جو ٹیم کی مستقل مزاج کارکردگی کا ثبوت تھا۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کے واحد کپتان ہیں جنہوں نے جونیئر اور سینئر دونوں سطح پر آئی سی سی ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔
انہوں نے ’2006‘ میں انڈر ’19‘ ورلڈ کپ میں پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے ٹیم کو عالمی چیمپئن بنایا، جبکہ بعد ازاں ’2017‘ میں چیمپئنز ٹرافی جیت کر بطور سینئر کپتان بھی عالمی اعزاز حاصل کیا۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ’2018‘ میں ملک کے اعلیٰ سول اعزاز ’پرائڈ آف پرفارمنس‘ سے بھی نوازا تھا۔
اپنے ریٹائرمنٹ بیان میں سرفراز احمد نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔ ان کے مطابق ’2006‘ میں انڈر ’19‘ ورلڈ کپ جیتنا اور ’2017‘ میں چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کرنا ان کے کیریئر کے سب سے یادگار لمحات تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز، اہلِ خانہ اور مداحوں کے بے پناہ تعاون اور محبت پر دل سے شکر گزار ہیں۔ سرفراز احمد کے مطابق پاکستان ٹیم کی تینوں فارمیٹس میں قیادت کرنا ان کے لیے ایک خواب کی تعبیر تھا اور انہوں نے ہمیشہ نڈر اور جارحانہ کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ایک متحد ٹیم بنانے کی کوشش کی۔
سابق کپتان نے نوجوان کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’بابر اعظم‘، ’فخر زمان‘، ’حسن علی‘، ’شاہین شاہ آفریدی‘ اور ’شاداب خان‘ جیسے میچ ونرز کو ابھرتے دیکھنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی حمایت اور اعتماد کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ادارے کی جانب سے مکمل تعاون حاصل رہا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
سرفراز احمد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگرچہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہو رہے ہیں، تاہم پاکستان کرکٹ ہمیشہ ان کے دل کے قریب رہے گی اور وہ مستقبل میں بھی کسی نہ کسی صورت میں کھیل کی خدمت کرتے رہیں گے۔