رمضان المبارک 2026 کی آمد میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، جس کے ساتھ ہی دنیا بھر کے مسلمانوں میں روزے کے اوقات کے حوالے سے دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ مختلف ممالک اور خطوں میں دن اور رات کے دورانیے میں فرق کے باعث اس سال بھی روزے کے دورانیے میں نمایاں فرق دیکھنے کو ملے گا۔
شمالی نصف کرے کے انتہائی شمالی علاقوں میں رہنے والے مسلمان رمضان 2026 کے دوران دنیا کے طویل ترین روزے رکھیں گے۔ شمالی روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ جیسے ممالک میں دن کا دورانیہ غیر معمولی حد تک طویل ہونے کے باعث روزے کا وقت 16 گھنٹوں سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ دورانیہ تقریباً 19 سے 20 گھنٹوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ان ممالک میں سورج طویل وقت تک افق پر رہتا ہے، جس کے باعث سحری اور افطاری کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور روزہ رکھنا جسمانی طور پر زیادہ مشقت طلب ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس، خطِ استوا کے قریب واقع ممالک اور جنوبی نصف کرے میں شامل خطوں میں روزے کا دورانیہ نسبتاً کم رہے گا۔ برازیل، جنوبی افریقہ، چلی، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا اور کینیا جیسے ممالک میں دن اور رات کا توازن بہتر ہونے کے باعث روزے کا وقت تقریباً 11 سے 14 گھنٹوں کے درمیان متوقع ہے، جو دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے۔
اسلامی علما اور فقہی ماہرین کے مطابق جن علاقوں میں دن یا رات کا دورانیہ غیر معمولی طور پر طویل یا مختصر ہو، وہاں کے مسلمانوں کے لیے شریعت میں آسانی فراہم کی گئی ہے۔ ایسے علاقوں کے مسلمان مکہ مکرمہ یا کسی قریبی معتدل شہر کے اوقات کے مطابق روزہ رکھ سکتے ہیں۔ اس سہولت کا مقصد عبادت میں توازن، صحت کا خیال اور دینی احکام پر عمل میں آسانی فراہم کرنا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق رمضان 2026 کا آغاز 19 فروری کو متوقع ہے، تاہم اگر 18 فروری کو چاند نظر آ گیا تو رمضان ایک دن قبل شروع ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے حتمی اعلان ہر ملک میں رویتِ ہلال کمیٹی کی جانب سے کیا جائے گا۔
گزشتہ برس کے مقابلے میں رمضان 2026 کے دوران پاکستان میں روزے کے اوقات مجموعی طور پر کم ہوں گے۔ دن کا دورانیہ نسبتاً مختصر ہونے کے باعث سحری اور افطاری کے درمیان وقفہ کم رہے گا، جس سے روزہ رکھنا عبادت گزاروں کے لیے نسبتاً آسان ہوگا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں روزے کا دورانیہ تقریباً 12 سے 13 گھنٹوں کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
رمضان المبارک کو دنیا بھر میں روحانیت، صبر، عبادت اور ہمدردی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے، اور روزے کے اوقات میں یہ فرق اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ اسلام نے ہر خطے اور ہر حالت کے انسانوں کے لیے سہولت اور آسانی کو مقدم رکھا ہے۔