عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کردی ہے کہ سٹریٹجک نوعیت کی آبنائے ہرمز ملک کے دشمنوں کے لیے بند رہے گی۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضاعی نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز بند کرسکتا ہے مگر پوری دنیا بھی جمع ہوجائے تو اسے نہیں کھول سکتی۔
ایک انٹرویو میں محسن رضاعی نے کہا کہ کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے، مڑنے، گزرگاہ کے تنگ ترین حصے سے گزرنے اور دوسری جانب نکلنے میں سات سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں، اس لیے ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول قائم رہے گا۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پاسداران انقلاب کی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہے ، سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ یہ ایران کے دشمنوں کے لیے نہیں کھولی جائے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی پر غور نہیں کریں گے جب تک اسے دوبارہ کھول نہ دیا جائے۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے، ان کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوں ممالک اس تنگ سمندری گزرگاہ کے دونوں اطراف کی نگرانی کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے بحر ہند کے شمال میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کی طرف کئی ڈرون طیارے بھیجے ہیں جس نے اسے اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
عراقچی نے یہ بھی کہا کہ دستیاب ڈیٹا اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اس بحری جہاز نے اپنی سابقہ پوزیشن چھوڑ دی ہے اور بحر ہند کی گہرائیوں میں پیچھے ہٹ گیا ہے۔
یہ بیانات امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس دھمکی کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اگر آبنائے کو نہ کھولا گیا تو وہ ایران پر بمباری جاری رکھیں گے یہاں تک کہ اسے دوبارہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔
واضح رہے امریکی صدر نے تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 6 اپریل تک کی مہلت دی تھی ، اس دوران پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔