اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کی طرف سے دائر درخواستوں پر سماعت آئندہ پیر سے کرنے کا حکم دیا ہے ۔
کیس کی سماعت شروع ہونے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب نئی قانون سازی کے پیچھے چھپ رہا ہے اور سزا معطلی کی درخواستوں کو آئینی عدالت میں لے جانے کی بات کی جا رہی ہے، کیا ساری باتیں ان کی ماننی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سزا کو 14 ماہ ہو چکے ہیں، بانی پی ٹی آئی 74 سال کے ہیں جبکہ بشریٰ بی بی 54 سال کی ہیں، اور بشریٰ بی بی کو ان کے بقول صرف معاونت پر جیل میں رکھا گیا ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ضمانت کی درخواست پر نوٹس ہوئے 10 ماہ گزر چکے ہیں جبکہ 9 مرتبہ پراسیکیوشن کی درخواست پر سماعت ملتوی کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ نیب غیر معینہ مدت تک بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنا چاہتا ہے اور عدالت کے سامنے نیب کی جانب سے متعدد گرفتاریوں کی ٹائم لائن بھی پیش کی۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آج ہی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی جائے میڈیکل رپورٹ سامنے ہے، ایک آنکھ ضائع ہو رہی ہے جبکہ بشریٰ بی بی کو بھی آنکھ کا مسئلہ درپیش ہے، ہنگامی صورتحال ہے اور وہ آج دلائل دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب ان کے صبر کا امتحان لے رہا ہے، اور یہ کیس جب بھی سنا گیا تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بریت کے باوجود نیا چالان، عمران خان کیخلاف عدالتی تاریخ کا انوکھا واقعہ، جج بھی چونک اٹھے
سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی درخواستوں کے بجائے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف مرکزی اپیلیں سنی جائیں۔
اس پر چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ نیب کی سزا معطلی درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دینے کی استدعا منظور نہیں کی جاتی اور بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے بیرسٹر سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مناسب بات ہے کہ اپیلوں پر دلائل شروع کیے جائیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں اپنے مؤکلین سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اپنے مؤکل کی اپیل کے لیے ہدایات نہیں ہیں، انہیں جیل میں ملاقات کروائی جائے تاکہ وہ ہدایات لے سکیں اور دلائل دے سکیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وکیل کو اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے اور وہ ہدایات لے کر دلائل دیں۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی اپیلوں پر سماعت کے لیے آئندہ ہفتے تاریخ دی جائے گی۔
سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ 14 ماہ سے التوا مانگا جا رہا ہے، اور اگر اپیلوں پر گئے تو مزید طویل وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری کی ضرورت نہیں تھی اور یہ کیس آدھے گھنٹے میں ختم ہو سکتا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل کو وقت دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مؤکل سے مشورہ کر لیں، اور آئندہ سماعت پر دلائل دیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت اگلے پیر تک ملتوی کر دی۔

