پاکستان سپر لیگ 11 کے چھٹے میچ میں لاہور قلندرز نے کراچی کنگز کے خلاف 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 128 رنز بنا کر حریف ٹیم کے لیے جیت کے لیے 129 رنز کا ہدف دیا ہے جواب میں کراچی کنگز نے مطلوبہ ہدف 6وکٹو ں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
میچ کے دوران دلچسپ لمحات دیکھنے کو ملے اور آخری اوور تک مقابلہ سنسنی خیز رہا۔ کراچی کنگز کو جیت کے لیے آخری اوور میں اہم رنز درکار تھے، تاہم عباس آفریدی نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری اوور کی تیسری گیند پر شاندار چھکا لگا کر میچ اپنے نام کر لیا اور ٹیم کو فتح دلائی۔
میچ کے دوران ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب امپائرز نے لاہور قلندرز پر 5 رنز کی پنلٹی عائد کی۔ یہ پنلٹی اس وجہ سے لگائی گئی کہ لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں نے گیند سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی، جس پر امپائرز نے قوانین کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے اضافی رنز کراچی کنگز کے کھاتے میں ڈال دیے۔
کراچی کنگز نے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے محتاط اور ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا اور دباؤ کے باوجود مطلوبہ اسکور حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ٹیم کی بیٹنگ لائن نے اہم مواقع پر رنز بنائے اور آخر کار میچ اپنے نام کیا۔
میچ کے ابتدائی اوورز میں کراچی کنگز کے بولرز نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے قلندرز کے بیٹرز کو دباؤ میں رکھا اور انہیں آزادی سے کھیلنے کا موقع نہیں دیا، تجربہ کار آل راؤنڈر معین علی نے پہلے ہی اوور میں فخر زمان کو آؤٹ کیا اور وقفے وقفے سے دیگر وکٹیں بھی حاصل کیں۔
قلندرز کے بیٹرز محتاط انداز میں کھیلتے رہے اور کوئی بڑی شراکت داری قائم نہیں کر سکے،عبداللہ شفیق نے سب سے زیادہ 33 رنز بنا کر مزاحمت کی، جبکہ سکندر رضا 19، محمد نعیم 13، پرویز حسین 12، شاہین آفریدی 7 اور اسامہ میر ایک رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
کراچی کنگز کی جانب سے معین علی، میر حمزہ اور ایڈم زمپا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں، جب کہ حسن علی، سلمان آغا اور عباس آفریدی نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
دونوں ٹیموں نے اپنے ٹورنامنٹ کا آغاز فاتحانہ انداز میں کیا ہے، کراچی کنگز نے اپنے پہلے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دی، جہاں معین علی کی آل راؤنڈ کارکردگی اور حسن علی کی باؤلنگ نمایاں رہی، دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز نے افتتاحی میچ میں حیدرآباد کو آؤٹ کلاس کیا تھا۔