امریکی اخبار نے حالیہ جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اسرائیل یا کوئی بھی دوسری قوت ایران کی توانائی اور تیل کی تنصیبات پر مزید حملے نہ کرے۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں ایک بڑے علاقائی ٹکراؤ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم تزویراتی مؤقف اختیار کیا ہے۔ امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم ترین جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، ایرانی توانائی کی تنصیبات پر مزید حملوں کی مخالفت کر دی ہے۔ صدر کا ماننا ہے کہ ایران کو “واضح پیغام” مل چکا ہے، اس لیے اب مزید تباہی کی ضرورت نہیں ہے۔
اس حملے کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود تمام ایسی تیل تنصیبات کو ہدف بنانے کا اعلان کر دیا ہے جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت یا انتظام میں ہیں۔ ایران نے قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر میزائل حملہ کیا، جس سے وہاں آگ لگ گئی۔ قطر انرجی کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم قطر نے اسے اپنی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ صدر ٹرمپ کو جنوبی پارس پر حملے کا پہلے سے علم تھا، تاہم ان کا موجودہ مؤقف “حتمی” نہیں ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں جہاز رانی میں مداخلت کی یا مزید اشتعال انگیز اقدامات کیے، تو امریکی صدر دوبارہ ایرانی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کو اس حملے کا پیشگی علم تھا تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر کا مؤقف حتمی نہیں اور اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں مزید اشتعال انگیز اقدامات کیے تو وہ دوبارہ ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران سے ممکنہ انخلا کی تیاری، صدر ٹرمپ کا فوجی مشن ختم کرنے سے متعلق بڑا اعلان

