امریکا اورایران کے مابین پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران بہت سے امور پر اتفاق ہوگیا تھا تاہم یورنئم افزودگی کی حوالگی کے معاملے پر دونوں ممالک کے مابین اختلاف کیوجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا اس حوالے سے امریکی میڈیا نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ان مذاکرات میں امریکا کی طرف سے یورنیم افزودگی کو 20 سال تک معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ ایران 5 سال کیلئے یورنیم افزودگی سے دستبردار ہونے کے لیے تیار تھا ۔یہ نقطہ سب سے اہم ہے جو ڈیڈلاک کی وجہ بنا۔
امریکی میڈیا کے کےمطابق دونوں ممالک کے مابین معاملات اب بھی حل ہوسکتے ہیں اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے پس پردہ مزاکرات کا عمل ابھی جاری ہے اور سیز فائر کے ختم ہونے تک قومی امکان ہے کہ دونوں ممالک کسی ایک نقطہ پر متفق ہو جائیں گے
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم کا دوست ممالک کا دورہ ری شیڈول،پہلے کس ملک جائیں گے؟ایجنڈا کیا؟

