پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد اس وقت دنیا کے اہم سفارتی مذاکرات کا مرکز بنا ہوا ہے، جو پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات سمیت مختلف عالمی رابطوں نے پاکستان کے سفارتی کردار کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں اہم فریق اپنے مؤقف سامنے رکھ رہے ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے اور ملک کی سفارتی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق کئی ممالک بیک ڈور چینلز کے ذریعے بھی پاکستان کے ذریعے رابطے کر رہے ہیں۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور مستقل امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کو پائیدار امن میں بدلنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ بھارت کا رویہ ہمیشہ منفی رہا ہے اور وہ خطے میں امن کے بجائے کشیدگی کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر بھی بھارت کے مؤقف پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے اور آج دنیا پاکستان کے کردار کو تسلیم کر رہی ہے، چاہے وہ سکیورٹی ہو یا سفارتی محاذ