خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعرات کے روز اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے کر احتجاج ریکارڈ کرایا، جب جیل انتظامیہ نے ایک بار پھر انہیں سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات کی ان کی آٹھویں کوشش تھی، جسے مسترد کر کے حکام نہ صرف انہیں بلکہ پورے صوبے کو ’’تحقیر‘‘ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ کئی مرتبہ صبر کے ساتھ جیل حکام سے رجوع کر چکے ہیں لیکن ہر بار انہیں واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے شخص کو، جو 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے، کم از کم اس کے منصب کا احترام تو دیا جانا چاہیے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک جاری رہا تو حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “جس دن سہیل آفریدی نے زور کا جواب زور سے دیا، اُس دن انہیں سمجھ آئے گی۔”
سہیل آفریدی نے شکایت کی کہ انہیں کسی واضح وجہ کے بغیر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو ان کے مطابق پورے خیبر پختونخوا کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ایک منتخب وزیرِ اعلیٰ کو اپنے قائد سے ملنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ ان کے مطابق جیل حکام نے نہ صرف انہیں روکا بلکہ اندر موجود ذمہ داران کو یہ تک نہیں بتایا کہ وہ کئی گھنٹوں سے باہر موجود تھے۔
اس صورتحال نے کے پی حکومت اور وفاقی حکام کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے دونوں جانب تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے اور آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کی مسلسل آمد اس معاملے کی سنگینی اور صوبے میں بڑھتی بے چینی کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے دن سے اصولی مؤقف پر کھڑے ہیں اور ملاقات کی اجازت نہ دے کر صوبے کے عوام کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کی نمائندگی کی کوئی قدر نہیں۔