چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے اعزاز میں جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پروقار الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال، مستقبل کے دفاعی تقاضوں اور مسلح افواج کے کردارپراہم نکات پیش کیے۔
اپنے خطاب میں جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ آج کی دنیا غیر معمولی اور ناقابلِ تصور رفتار سے تبدیل ہو رہی ہے اور اس تبدیلی کے اثرات نہ صرف پاکستان کی بیرونی سیکیورٹی پراثر انداز ہو رہے ہیں بلکہ داخلی استحکام اور ادارہ جاتی حکمت عملی پر بھی گہرے اثرات چھوڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اثرات ’ہائبرڈ وارفیئر‘ سے لے کر روایتی جنگ کے خطرات تک محیط ہیں، اس لیے مسلح افواج کو پہلے سے زیادہ ہم آہنگی، مشترکہ تعاون اور یکسو مقصد کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی ضروری
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ وہ تینوں مسلح افواج، زمینی، فضائی اور بحریہ کے درمیان مشترکہ حکمت عملی اور تعاون کو محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک ’اہم آپریشنل ضرورت‘ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تنظیمی اصلاحات ناگزیر ہیں اور جوائنٹ سسٹم کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
افواج کومکمل بااختیاراور جدید صلاحیتوں سے لیس ہونا چاہیے
تقریب کے دوران انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’میں اس بات کو ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک مکمل بااختیار اور مناسب صلاحیت سے لیس مسلح افواج نظام کے لیے ایک عملی ضرورت ہے۔ ہماری افواج کو مربوط حکمت عملی کے ذریعے مستقبل کی جنگوں کے لیے تیار رہنا ہوگا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بدلتی سیکیورٹی صورتحال اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کے تناظر میں پاکستان کو اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مربوط، جدید اور مؤثر بنانا ہوگا۔
جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر اور تینوں افواج کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ وہ تینوں افواج، بالخصوص جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر کے لیے نیک تمنائیں اور دعائیں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بھی نیا کمانڈ ڈھانچہ تشکیل دیا جائے، اسے اپنی نئی ذمہ داریوں کو ایمانداری، عزم اور پیشہ ورانہ عزم کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
تقریب میں اعلیٰ عسکری قیادت کی شرکت
الوداعی تقریب میں تینوں افواج کے سینیئر افسران، جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر کے عہدیداران اور عسکری حکام نے شرکت کی۔ شرکا نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی پیشہ ورانہ خدمات، ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ملکی دفاع کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہا۔