پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے اور اب پاکستانی چینی درآمدی چینی سے مہنگی ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی چینی کی قیمت 210 سے 215 روپے فی کلو کے درمیان ہے، جبکہ درآمدی چینی فی کلو صرف 200 روپے میں دستیاب ہے، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مقامی چینی مارکیٹ میں سبقت حاصل کر گئی ہے اور صارفین کے لیے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
سرکاری سطح پر چینی کی قیمتیں ہول سیل اور ریٹیل کے لیے بھی مقرر کی گئی ہیں، حکومتی اعلامیہ کے مطابق چینی کی ہول سیل قیمت 173 روپے فی کلو اور ریٹیل قیمت 177 روپے فی کلو ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں قیمتیں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے عوام پر مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں چینی مہنگی ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کی قلت ہے، مقامی اور درآمدی چینی کی فراہمی میں فرق کے باعث صارفین کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
دکانداروں کے مطابق، درآمدی چینی ہول سیل میں 195 روپے فی کلو دستیاب ہے، لیکن پاکستانی چینی اپنے معیار اور مٹھاس کی وجہ سے زیادہ پسند کی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ صارفین مقامی چینی کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق، چینی کی قیمتوں میں یہ فرق نہ صرف عوام کی خریداری پر اثر ڈال رہا ہے بلکہ بازار میں مہنگائی کے بڑھتے رجحان کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے اور عوام کو ریلیف ملے۔
چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیوں کے باعث عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ وہ مقامی چینی کی مٹھاس اور معیار سے مطمئن ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے بجٹ کو متاثر کر رہی ہیں۔