قومی سطح پر تمباکو کنٹرول کی کوششوں کا جامع جائزہ، قانون ساز، سرکاری ادارے اور سول سوسائٹی ایک پلیٹ فارم پر

قومی سطح پر تمباکو کنٹرول کی کوششوں کا جامع جائزہ، قانون ساز، سرکاری ادارے اور سول سوسائٹی ایک پلیٹ فارم پر

اسلام آباد: عورت فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ تمباکو کنٹرول سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان بھر میں تمباکو اور نکوٹین کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سنجیدہ اور تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کی مہمانِ خصوصی ممبر قومی اسمبلی محترمہ فرح ناز اکبر، پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم تھیں، جنہوں نے ملک بھر میں تمباکو کے تیزی سے پھیلتے ہوئے رجحان کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری، مربوط اور مؤثر اصلاحات پر زور دیا۔

محترمہ فرح ناز اکبر نے تعلیمی اداروں کے گرد منشیات اور نکوٹین مصنوعات کی بڑھتی ہوئی دستیابی کو نوجوانوں کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین میں تمباکو نوشی میں تیزی سے اضافے کو صحتِ عامہ کے لیے ایک نیا اور نہایت تشویشناک چیلنج قرار دیا۔

انہوں نے کہا:
“پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحتِ عامہ سے متعلق خدشات کو مؤثر قانون سازی کی صورت دے۔ ہم بیوروکریسی کی سستی یا پالیسی سطح کی تاخیر کو نوجوان پاکستانیوں کی صحت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔”

انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ تمباکو اور ابھرتی ہوئی نکوٹین مصنوعات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مضبوط قوانین، طاقتور نفاذی نظام اور بین الشعبہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔

اجلاس میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان، سرکاری افسران، تعلیمی شعبے کے نمائندگان، صحت کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور تمباکو کنٹرول کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے تحفظ میں اپنے اپنے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عوام کے لیے بری خبر ! چینی کی قیمتوں کو پر لگ گئے

ممبر صوبائی اسمبلی تنویر اسلم راجہ نے موجودہ قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ایک فعال، جوابدہ اور ذمہ دار بیوروکریٹک نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عورت فاؤنڈیشن کی منشیات اور تمباکو کے خلاف کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا:
“پالیسی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک بیوروکریسی خلوصِ نیت کے ساتھ کام نہ کرے اور ہر فرد اپنی ذاتی ذمہ داری قبول نہ کرے۔”
انہوں نے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، شفافیت کے فروغ اور عوامی شمولیت پر زور دیا اور پنجاب اسمبلی میں تمباکو اور نئی نکوٹین مصنوعات کے کنٹرول سے متعلق قرارداد پیش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

رکن صوبائی اسمبلی محترمہ شازیہ رضوان نے اپنے خطاب میں خاندان کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نشے کی روک تھام کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین پہلی دفاعی صف ہیں، آگاہی اور نگرانی سے کم عمری میں لت لگنے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں، جبکہ ویپس، نکوٹین پاؤچز اور فلیورڈ تمباکو جیسی جدید مصنوعات سے متعلق کمیونٹیز کو مناسب آگاہی فراہم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے والدین کے لیے جامع آگاہی مہمات چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔

تکنیکی بریفنگ کے دوران محترم سید صفدر رضا (ٹیم لیڈر، تمباکو کنٹرول، عورت فاؤنڈیشن) نے نفاذ میں موجود سنگین خلا، پالیسی کی کمزوریوں اور تمباکو کے خلاف قومی سطح پر متحدہ کارروائی کی فوری ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

محترم محمد آفتاب احمد (نیشنل ٹوبیکو کنٹرول سیل، وزارتِ قومی صحت) نے 2002 کے “انسدادِ تمباکو نوشی اور غیر تمباکو نوش افراد کے تحفظ” کے قانون پر مؤثر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور پالیسی، قانون سازی اور نفاذ کی سطح پر جاری حکومتی اقدامات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔

سابق رکنِ قومی اسمبلی اور تمباکو کنٹرول کے ممتاز ماہر ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے دیرپا اصلاحات کے لیے عوامی احتساب اور نچلی سطح پر عوامی متحرکیت کو ناگزیر قرار دیا اور ملک میں تمباکو کی صنعت کے مضبوط اثر و رسوخ پر بھی روشنی ڈالی۔

جناب وقاص محمود کیانی (ممبر رجسٹریشن، آئی سی ٹی، پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹس ریگولیٹری اتھارٹی) نے نجی تعلیمی اداروں میں تمباکو کے استعمال کے خلاف PEIRA کی کوششوں سے آگاہ کیا اور تعلیمی اداروں کے اطراف نکوٹین مصنوعات کی بڑھتی ہوئی دستیابی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت ضابطہ جاتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی ابلاغی ماہر ڈاکٹر بریرا بختاور نے تمباکو کے استعمال اور میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک رسائی کے بڑھتے ہوئے تعلق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کی صنعت قانونی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا، بالخصوص موسیقی کے ذریعے ویپس کو نوجوانوں میں مقبول بنا رہی ہے۔

محترمہ حاجرہ ذاکر شاہ (نمائندہ، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پیمرا) نے شہریوں میں تمباکو کے استعمال کے خلاف ایک ہمہ گیر سماجی تحریک کی ضرورت پر زور دیا۔

رکن صوبائی اسمبلی محترمہ طاہرہ مشتاق جنہوں نے پنجاب اسمبلی سے تمباکو کنٹرول سے متعلق قرارداد منظور کروائی، نے پنجاب میں تمباکو کنٹرول کے نفاذی اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

اختتامی کلمات میں محترمہ مہک فاطمہ (نمائندہ، عورت فاؤنڈیشن) نے صحت مند اور تمباکو سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے عورت فاؤنڈیشن کے دیرینہ اور مستقل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ شواہد پر مبنی وکالت، بین الشعبہ جاتی تعاون اور کمیونٹی سطح پر مسلسل آگاہی و تربیت کے ذریعے اپنی جدوجہد پوری قوت سے جاری رکھے گا۔

Related Articles