وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کردیے

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کردیے

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کاؤشوں کے بعد بین الاقوامی سفارت کاری کے افق پر پاکستان نے اب تک کی سب سے بڑی اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی جنگ بندی معاہدے یعنی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ (اسلام آباد میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ) پر بطور ثالث (میڈی ایٹر) باضابطہ طور پر اپنے دستخط ثبت کر دیے ہیں۔

اس انتہائی اہم اور اسٹریٹجک دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی اپنے الیکٹرانک دستخط کر چکے ہیں، جس کے بعد اب پاکستان کے وزیراعظم کے دستخط نے اس امن ڈیل کو حتمی اور تاریخی شکل دے دی ہے۔ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر کو ایک ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کا مرکزی نقطہ اور پسِ پردہ کوششیں

اس تاریخ ساز معاہدے کو ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کا نام دیا جانا اس بات کا واشگاف ثبوت ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد نے اس پورے امن عمل کے مرکزی محور کے طور پر کام کیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کی عسکری و سفارتی قیادت خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گزشتہ کئی ہفتوں سے تہران اور واشنگٹن کے مابین بالواسطہ مذاکرات اور سفارتی پیغامات کی ترسیل کے لیے انتھک پسِ پردہ کوششیں جاری رکھی ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ٹرمپ کی دستخط شدہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی کاپی میڈیا پر شیئر کردی

اس مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں حریف ممالک عارضی طور پر جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے پر راضی ہوئے ہیں، جس میں سیکیورٹی معاملات کے حل کے لیے مزید 60 دن کی توسیع کی گئی ہے تاکہ سوئزرلینڈ میں ہونے والی باضابطہ تقریب کے دوران حتمی اور مستقل معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

امریکا ایران سفارتی تعطل اور پاکستان کا روایتی کردار

امریکا اور ایران کے تعلقات دہائیوں سے شدید ترین تناؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی دگرگوں صورتحال اور بحری تجارتی راستوں پر حملوں کے باعث یہ کشیدگی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں اور ایران کے جوابی اقدامات کے باعث خطہ ایک بڑی علاقائی جنگ کے دھانے پر کھڑا تھا۔

پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ پڑوسی تعلقات ہیں جبکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے دیرینہ سیکیورٹی اور سفارتی روابط قائم ہیں۔

ماضی میں بھی پاکستان نے خلیجی ممالک اور ایران کے مابین غلط فہمیاں دور کرنے میں پل کا کردار ادا کیا تھا، لیکن یہ ملکی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ کسی عالمی جنگ بندی معاہدے کا باقاعدہ نام پاکستان کے دارالحکومت ’اسلام آباد‘ سے منسوب ہوا ہے اور پاکستانی وزیراعظم نے اس پر بطور ضامن دستخط کیے ہیں۔

پاکستان کا بطور ‘عالمی ثالث’ ابھرنا

اس معاہدے پر دستخط کر کے پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی اب صرف خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ عالمی بحرانوں کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘  پر دستخط پاکستان کی ’سافٹ پاور‘ کو دنیا بھر میں ایک نئی بلندی فراہم کریں گے۔

امریکی اور ایرانی اعتماد کا مظہر

 صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سخت گیر رہنما اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاکستان کی ثالثی پر مکمل اتفاق کرنا اور اس دستاویز پر دستخط کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک پاکستان کی سیکیورٹی اور سفارتی قیادت کی ساکھ اور غیر جانبداری پر کس قدر گہرا اعتماد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ اور ایرانی صدر نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دئیے ،معاہدہ نافذ العمل ہو گیا

ملکی معیشت پر مثبت اثرات

عالمی برادری میں پاکستان کا یہ بڑا سفارتی بریک تھرو ملکی معیشت کے لیے بھی خوش آئند ہے۔ اس تاریخی کردار کے بعد پاکستان کے دوست ممالک (سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات) اور عالمی مالیاتی اداروں کی نظر میں پاکستان کی اہمیت اور معاشی ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے سرمایے کاری کی راہیں کھلیں گی۔

مستقبل کی جیو-اکنامکس

اس معاہدے کے بعد پاک-ایران گیس پائپ لائن جیسے رکے ہوئے منصوبوں اور سی پیک کے تحت علاقائی روابط کو دوبارہ فعال کرنے میں حائل امریکی پابندیوں کے دباؤ میں کمی آنے کی قوی امید پیدا ہو گئی ہے۔

Related Articles