دنیا بھر کو جنگ کے سائے سے نکالنے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی صبح کا آغاز کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے مابین تاریخی جنگ بندی معاہدہ حتمی طور پر طے پا گیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی تاریخ کے اس سب سے بڑے بریک تھرو کی تصدیق کرتے ہوئے معاہدے کی باضابطہ کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط بھی موجود ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عالمی سفارت کاری کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ 2 روایتی حریف ممالک کے مابین اتنا بڑا اور حساس نوعیت کا بین الاقوامی معاہدہ روایتی کاغذی کارروائی کی بجائے ’الیکٹرانک دستخط‘ (ڈیجیٹل سائن) کے ذریعے مکمل کیا گیا ہے۔
سوئزرلینڈ میں باضابطہ تقریبِ دستخط
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس باضابطہ جنگ بندی معاہدے کی حتمی تقریب جمعہ کو سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں طے پا چکی ہے۔
اس تاریخی تقریب میں امریکی اور ایرانی وفود کے اعلیٰ حکام کے علاوہ اس پورے عمل میں ثالثی (میڈی ایشن) کا انتہائی اہم، جرات مندانہ اور کلیدی کردار ادا کرنے والے ممالک کے قائدین بھی خصوصی طور پر شریک ہوں گے۔ ان ممالک میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر شامل ہیں۔
پاکستانی قیادت اور سفارتی ٹیم نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے اور خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے پسِ پردہ انتھک کوششیں کیں، جنہیں عالمی سطح پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکٹرانک دستخط کے بعد اب سوئزرلینڈ میں دونوں صدور کی براہِ راست طے شدہ ملاقات کے حتمی شیڈول کے حوالے سے اگلا فیصلہ آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کی باضابطہ تصدیق
تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران اس تاریخی پیش رفت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا حتمی متن مکمل طور پر طے پا گیا ہے اور دونوں فریقین نے اس پر الیکٹرانک دستخط ثبت کر دیے ہیں، جو کہ دونوں ممالک کی طرف سے امن کی مخلصانہ کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایران امریکا کشیدگی اور ڈیجیٹل سفارت کاری کا آغاز
گزشتہ طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے مابین مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، جوہری پروگرام اور بحری تجارتی راستوں پر حملوں کے باعث جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی کے بعد یہ خدشات مزید بڑھ گئے تھے کہ دونوں ممالک میں براہِ راست تصادم ہو جائے گا۔
تاہم خطے کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے ڈر سے پاکستان، سعودی عرب اور قطر نے فوری طور پر’بیک چینل ڈپلومیسی‘ کا آغاز کیا۔
روایتی طور پر بین الاقوامی معاہدوں کے لیے صدور مہینوں تک طویل سفر اور پروٹوکول کا انتظار کرتے تھے، لیکن حالیہ سیکیورٹی چیلنجز اور وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے تاریخ میں پہلی بار الیکٹرانک دستخط کا سہارا لیا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ اب عالمی سیاست بھی جدید ترین ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے۔
پاکستان کی سفارتی فتح اور ‘سافٹ پاور’
اس معاہدے میں پاکستان کا بطور ثالث شامل ہونا ملکی خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے میں امن کا علمبردار ہے بلکہ مسلم امہ اور مغرب کے مابین ایک معتبر پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔
ٹرمپ کی ‘ڈیل میکنگ’ حکمتِ عملی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے خود کو ایک عظیم ’ڈیل میکر‘ (معاہدے کرنے والا) کہتے آئے ہیں۔ جنگ کے بجائے ایران کے ساتھ ڈیجیٹل معاہدہ کر کے انہوں نے اپنی اسی چھاپ کو برقرار رکھا ہے، جس سے وہ امریکی عوام کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہیں گے کہ انہوں نے بغیر کسی امریکی فوجی کا خون بہائے ایک بڑی جنگ کو ٹال دیا۔
عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر اثرات
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی خبر آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل (کروڈ آئل) کی قیمتوں میں استحکام آنے کی امید ہے، جس سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو مہنگائی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ڈیجیٹل دستخط کی نئی روایت
اس معاہدے نے بین الاقوامی قانون (انٹرنیشنل لا) میں ایک نئی نظیر قائم کی ہے۔ اب بڑے بڑے ممالک سفارتی تعطل کو توڑنے کے لیے مہینوں کے سفر کے بجائے چند منٹوں میں الیکٹرانک دستخط کے ذریعے بحرانوں کا حل نکال سکیں گے۔