ٹرمپ اور ایرانی صدر نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دئیے ،معاہدہ نافذ العمل ہو گیا

ٹرمپ اور ایرانی صدر نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دئیے ،معاہدہ نافذ العمل ہو گیا

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں جس کے بعد یہ معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق امریکا اور ایران نے مقررہ وقت سے پہلے ہی مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکمل کر لیے ، ایران اور امریکہ کے صدور نے مفاہمت پر الیکٹرانک دستخط کیے، معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو بحال کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق معاہدے پر دستخط ابتدائی طور پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا طے تھے تاہم سفارتی رابطوں کے بعد اس عمل کو پہلے مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایک ثالث ملک کے سفارت کار اور دیگر ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریق جلد از جلد معاہدے پر عملدرآمد چاہتے تھے تاکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر لائی جا سکے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کا بنیادی مقصد اہم بحری گزرگاہ کو فوری طور پر کھولنا تھا کیونکہ امریکا اور ایران اس معاملے پر پہلے ہی اتفاق کر چکے تھے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کے متن کو جاری کرنے کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کو سیاسی دباؤ کا سامنا بھی تھا تاہم ایک سفارتی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ باضابطہ دستخط سے قبل معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر نہ لائی جائیں۔

امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اب اس معاہدے پر عملی اقدامات اور اس کے اثرات پر مرکوز ہیں۔

editor

Related Articles