امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ختم ہونے کا اعلان سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی ہے۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 6.25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے۔
ترکیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا میرے خیال میں ایران کے ساتھ ایم او یو ختم ہو چکا ہے ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی ختم ہو گئی ایرانیوں سے ڈیل نہیں کرنا چاہتا۔
انہوں نے مزید کہا ایرانیوں کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرتے میں ایران کے ساتھ اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔
ٹرمپ کے اس بیان نے سرمایہ کاروں میں یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہی خدشات عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملے ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے بعد بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ امریکی خام تیل (WTI) کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 2.7 فیصد اضافے کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی جبکہ اب تازہ پیش رفت کے بعد قیمتوں میں مزید 6.25 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا خلیج میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے اثرات صرف عالمی منڈی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان سمیت ترقی پذیر معیشتوں کو بھی ایندھن کی درآمدی لاگت میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے سے پٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جبکہ درآمدی اخراجات، مہنگائی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر عالمی منڈی کی گہری نظر برقرار رہے گی کیونکہ یہی عوامل خام تیل کی آئندہ قیمتوں کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔