کیا مستقبل میں استعمال شدہ گاڑیاں سستی ہوں گی یا مہنگی؟، حکومت کی طرف سے بڑا فیصلہ متوقع

کیا مستقبل میں استعمال شدہ گاڑیاں سستی ہوں گی یا مہنگی؟، حکومت کی طرف سے بڑا فیصلہ متوقع

حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق ملک میں نافذ 3 بڑی سکیموں پر ازسرِنو غور شروع کر دیا ہے اور اہم تبدیلیوں کی تجویز کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) کو بھجوائی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مجوزہ پلان کے تحت ’پرسنل بیگیج سکیم‘ مکمل طور پر ختم کرنے جبکہ ’گفٹ سکیم‘ اور ’ٹرانسفر آف ریزیڈنس‘ کو سخت بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:استعمال شدہ بہترین گاڑیاں جو آپ 15لاکھ روپے کے اندر خرید سکتے ہیں

وزارتِ تجارت نے اس حوالے سے تیار کی گئی تفصیلی سمری ’ای سی سی ‘ کو بھیج دی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور غلط استعمال کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومتی ذرائع بتا رہے ہیں کہ بہت سے درآمد کنندگان ان سہولتوں کو پاکستانیوں کے لیے بنائی گئی اصل روح کے خلاف کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

پرسنل بیگیج سکیم ختم کرنے کی تجویز

سمری کے مطابق ’پرسنل بیگیج سکیم‘ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ سکیم بنیادی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے تھی، تاکہ وہ اپنے استعمال کی گاڑی ملک واپس لاتے وقت خصوصی چھوٹ حاصل کر سکیں۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سکیم کو کاروباری حلقے درآمدات کے لیے بائی پاس راستے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس سکیم سخت ہوں گی

باقی 2 سکیمیں ’ٹرانسفر آف ریزیڈنس‘ اور ’گفٹ سکیم‘ برقرار رہیں گی، تاہم وزارت نے سفارش کی ہے کہ انہیں ’واضح، سخت اور شفاف ضابطوں‘ کے ساتھ نافذ کیا جائے۔

مزید پڑھیں:گزشتہ چارماہ میں کتنی گاڑیاں فروخت ہوئیں؟ آٹو سیکٹر میں مثبت اقدامات کے اثرات سامنے آنا شروع

تجویز کے مطابق بیرون ملک سے گاڑی تحفے میں بھیجنے والوں کی سخت تصدیق کی جائے، ٹرانسفر آف ریزیڈنس کے لیے رہائش کی مدت اور دستاویزی ثبوت سخت کیے جائیں، کسٹم کلیئرنس کے عمل میں نیا ڈیجیٹل ویریفیکیشن سسٹم متعارف کرایا جائے۔

یہ بھی تجویز ہے کہ امپورٹرز کے لیے ایک جامع ٹریکنگ سسٹم بنایا جائے تاکہ غلط استعمال روکا جا سکے، اسکیموں کے غلط استعمال روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

سمری میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ان سہولتوں کے ذریعے گاڑیوں کی تجارتی درآمد میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف ریونیو کا نقصان ہوا بلکہ مقامی آٹو انڈسٹری بھی متاثر ہوئی۔ وزارت کے مطابق سختی کا مقصد پاکستانی صارفین کی ضروریات کو متاثر کیے بغیر امپورٹ کے نظام کو شفاف بنانا ہے۔

’ای سی سی ‘ میں منظوری کا عمل

سمری جلد  ’ای سی سی ‘ اجلاس میں زیرِ غور آئے گی، جس کے بعد کسی بھی حتمی فیصلے کا اطلاق وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی منظوری کے ساتھ ہوگا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد آٹو سیکٹر میں بے ضابطگیوں کی روک تھام، ریونیو میں اضافہ اور درآمدی نظام کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *