ایئر چیف چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاک فضائیہ نے مئی میں ملک کے دفاع، سائبر جنگ اور آپریشنز میں اپنی برتری دنیا پر ثابت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کی جارحیت کا ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا گیا، ملکی خود مختاری پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
منگل کو پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) اکیڈمی اصغر خان، رسالپور میں ہونے والی گریجوایشن پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپریشن بنیان مرصوص میں پاک فضائیہ نے دشمن کے دانت کھٹے کیے اور ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاع ہر دور میں ناقابلِ تسخیر ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف دشمن کے دفاعی نظام کو کامیابی سے نشانہ بنایا بلکہ جدید ترین فضائی خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے مؤثر ردعمل دیا۔
بھارت کو مئی میں منہ توڑ جواب
ایئر چیف مارشل سدھو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’مئی میں بھارتی جارحیت کا ایسا جواب دیا کہ دشمن کو ہمیشہ یاد رہے گا۔ معرکہ حق میں کامیابی اللہ کی خصوصی رحمت کے بعد قوم کی یکجہتی کا نتیجہ ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ 10 مئی کو بھارت کو جواب دیتے وقت پاکستان کا مقصد ’عزت کے ساتھ امن قائم کرنا‘ تھا۔
دشمن کے جدید ترین طیارے مار گرائے
ایئر چیف مارشل نے بتایا کہ ’پاک فضائیہ نے معرکہ حق میں دشمن کے جدید ترین طیارے مار گرائے اور دنیا نے ہماری فضائی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں کا عملی مشاہدہ کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کی فتح تینوں افواج کی ہم آہنگی، جارحانہ فیصلہ سازی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا نتیجہ ہے، جب پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا، پاک فضائیہ نے کم تعداد میں لڑنے کی روایتی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے دشمن کے سب سے جدید طیارے مار گرائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اقدامات اور آپریشنز مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ متوازن اور موزوں بھی تھے، دنیا نے اس سے قبل کبھی فضائی طاقت کے اتنے جرات مندانہ استعمال کو نہیں دیکھا، جو مخصوص ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط تھا۔
ایئر چیف مارشل نے کہا کہ ’اگرہماری قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا، تو ہمارا دشمن پاک فضائیہ کو کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر تیار پائے گا، ایک ذمہ دار جوہری طاقت کے طور پر، ہمارے تعلقات عالمی اور علاقائی اہم طاقتوں کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں‘۔
سائبر وار فیئر میں بھی برتری
انہوں نے کہا کہ مئی میں بھارت کے ساتھ تصادم نے جدید دور کی فضائی لڑائی کے لیے ایک نصابی مثال قائم کر دی،2025 میں ایک بار پھر پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تمام شعبوں میں برتری کو ثابت کیا، ہم نے اپنی آپریشنل ڈکٹرائن کو جنگی تصورات اور حکمت عملی کے مطابق ترتیب دیا جس میں محدود مالی وسائل اور ٹیکنالوجیز کی دستیابی کو مدِ نظر رکھا گیا۔
ایئر چیف مارشل نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاک فضائیہ روایتی قوت کے ساتھ ساتھ سائبر وار فیئر میں بھی نمایاں برتری رکھتی ہے۔ ’ہم نے سائبر میدان میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہے اور یہ ہمارے مستقبل کی جنگوں کے لیے اہم بنیاد ہے۔‘
ایئر چیف مارشل نے کہا کہ پاک فضائیہ نے اپنے اسمارٹ انڈکشن پروگرام کے ذریعے متعدد جدید لڑاکا طیاروں اور ٹیکنالوجیز کو ریکارڈ وقت میں شامل کیا، پاک فضائیہ کے ہر فرد کو ان کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور مشکل حالات میں سخت محنت کے لیے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مرکزی کردار
ایئر چیف مارشل نے کہا کہ معرکہ حق میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قائدانہ کردار ادا کیا اور پاک افواج نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی قیادت اور افواج، ہماری بہادر اور پُرعزم قوم کے ساتھ، ملک کی نظریاتی، جغرافیائی و فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کے لیے پرُعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کا اپنی مسلح افواج پر اعتماد بے مثال ہے، جو دہائیوں کی بے لوث خدمت، قربانی اور قوم کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے تمام افواج کے ساتھ مل کر بہادری اور ہم آہنگی سے وطن عزیر کا دفاع کیا، پوری قوم پاک فضائیہ کی ہمت اور جرات پر فخر کرتی ہے، یہ فتح ہماری قومی قیادت کے پختہ عزم کا ثبوت ہے۔
کیڈٹس کے لیے پیغام
تقریب سے خطاب میں انہوں نےگریجوایٹس کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی تربیت اور جذبہ پاک افواج کی کامیابی کا مظہر ہے۔ اللہ نے آپ کو وطن عزیز کی سرحدوں کا محافظ چنا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے خود کو بہرہ مند کریں، تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔‘ انہوں نے بہترین کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیڈٹس ہمارا فخر ہیں۔‘
عالمی امن میں پاکستان کا کردار
ایئر چیف مارشل نے کہا کہ پاکستان عالمی امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ ’ہم نے ہر محاذ پر ثابت کیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔‘ گریجوایشن پریڈ کا اختتام شاندار فلائٹ پاسٹ اور اعزازات کی تقسیم کے ساتھ ہوا، جبکہ کیڈٹس کے والدین اور اعلیٰ عسکری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔