وزیراعظم پاکستان ’میاں شہباز شریف‘ نے کرغزستان کے صدر ’صادر ژاپا روف‘ کو پاکستان آمد پر شاندار الفاظ میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان اور کرغزستان کے درمیان 1992 میں قائم ہونے والے سفارتی تعلقات نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہیں‘۔
جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے معزز مہمان کرغز صدر صادر ژاپاروف کے ہمراہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان ’معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں‘ کے تبادلے کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تاریخی طور پر مضبوط رہے ہیں اور ’توانائی، تجارت اور دوطرفہ تعاون‘ کو مزید وسعت دینے کے لیے دونوں حکومتیں مکمل طور پر آمادہ ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان اپنے برادر ملک کرغزستان کو ’بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی‘ کے لیے ’پاکستانی بندرگاہوں‘ کے استعمال کی سہولت دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ’15 معاہدوں اور یادداشتوں پر پیش رفت‘ ہوئی ہے، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی جانب سے صدر صادر ژاپا روف کو خوش آمدید کہتے ہیں، ان کا دورہ دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی جہتیں کھولے گا‘۔
شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ’آئندہ 2 سالوں میں باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھایا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کرغزستان بزنس فورم‘ دونوں ملکوں کے کاروباری طبقے کو قریب لائے گا اور نئی معاشی راہوں کو جنم دے گا۔
’پاکستان جنوبی ایشیا میں کرغزستان کا اہم شراکت دار ہے، کرغزصدر صادر ژاپاروف
تقریب میں کرغز صدر ’صادرژاپا روف‘ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی مہمان نوازی پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان جنوبی ایشیا میں کرغزستان کا شاندار اور اہم شراکت دار ہے‘۔
صدرژاپا روف نے کہا کہ دونوں ممالک نے ’دوطرفہ منصوبوں اور مستقبل کے راہوں‘ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کاسا 1000 منصوبہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے‘اور دونوں ممالک اس منصوبے کی جلد تکمیل کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان اور کرغزستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے یکساں عزم رکھتے ہیں‘، ہم تعلیم، سائنس اور تجارتی تعاون کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں ‘۔
کرغزستان کے صدر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت 2 ہزار پاکستانی طلبا کرغزستان میں زیر تعلیم ہیں۔ ’پاکستان اور کرغزستان کئی علاقائی و عالمی مسائل پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں‘۔
کرغز صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا دورہ پاکستان ’دو طرفہ تعلقات کو نئی وسعت دے گا‘ اور دونوں اقوام کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
یہ اعلیٰ سطح کا دورہ خطے میں تعاون، تجارت اور توانائی کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جس کے اثرات مستقبل میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔