کراچی: پاکستان میں 2025 کے دوران سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سال کے آغاز سے 8 دسمبر تک 24 قیراط سونا مجموعی طور پر 60 فیصد مہنگا ہوا، جب کہ فی تولہ قیمت میں 168,000 روپے کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی مارکیٹ میں بھی صورت حال اسی طرح رہی، جہاں سونا تاریخی بلندیوں کو چھوتا ہوا نظر آیا۔
صرافہ مارکیٹ کے مطابق 1 جنوری 2025 کو 24 قیراط سونا 281,500 روپے فی تولہ فروخت ہو رہا تھا، جو بڑھتے بڑھتے دسمبر میں 449,500 روپے فی تولہ تک جا پہنچا۔ فی 10 گرام قیمت 241,350 روپے سے بڑھ کر 385,380 روپے ہو گئی، یعنی 144,030 روپے کا اضافہ ہوا۔
سال 2025 کے دوران سونے کی قیمتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے سال میں اضافہ یکساں نہیں رہا، بلکہ مختلف مہینوں میں قیمتوں نے مختلف رفتار سے اوپر کا سفر طے کیا۔
جنوری میں فی تولہ سونا 290,500 روپے کے قریب رہا، جبکہ فروری میں مارکیٹ نے پہلی بڑی حرکت دکھائی اور قیمت میں 21 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔
مارچ میں سونا مزید 11 ہزار 500 روپے مہنگا ہوا، تاہم اصل تیزی اپریل میں دیکھنے میں آئی، جب ایک ہی مہینے میں قیمتوں میں 25 ہزار 500 روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مئی اور جون میں اضافہ نسبتاً محدود رہا، جہاں فی تولہ سونا بالترتیب 8 ہزار 500 روپے اور 8 ہزار 500 روپے مزید بڑھا۔ سال کے وسط یعنی جولائی میں قیمتوں میں تقریباً کوئی نمایاں حرکت نہیں دیکھی گئی اور اضافہ صرف 500 روپے رہا، جبکہ اگست میں بھی صورتحال ملتی جلتی رہی اور قیمت محض 1 ہزار 500 روپے بڑھی۔
تاہم سال کی سب سے نمایاں تبدیلیاں ستمبر اور اکتوبر میں سامنے آئیں۔ ستمبر میں سونا 32 ہزار روپے مہنگا ہوا، اور اس کے فوراً بعد اکتوبر میں مزید 42 ہزار روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہی دونوں مہینے وہ تھے جنہوں نے مجموعی سالانہ مہنگائی کو نمایاں طور پر اوپر دھکیلا۔
نومبر میں مارکیٹ دوبارہ سست روی کا شکار رہی اور قیمت میں صرف 3 ہزار روپے اضافہ دیکھا گیا۔ دسمبر کے اوائل میں سونے کی قیمتوں نے دوبارہ بلند سطح اختیار کی اور فی تولہ سونا تقریباً 12 ہزار روپے مزید مہنگا ہو گیا، جس کے بعد ملکی مارکیٹ سال کی بلند ترین سطح کے قریب جا پہنچی۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں تیزی کے تین بنیادی عوامل سامنے آئے۔
عالمی سیاسی و معاشی عدم استحکام:
دنیا بھر میں جاری جیو پولیٹیکل تناؤ، بڑے ممالک کے تنازعات اور معاشی سست روی نے سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف دھکیلا۔ سرمایہ کاروں نے غیر یقینی صورت حال کے باعث سونا ذخیرہ کرنا شروع کیا، جس سے عالمی طلب میں تیزی آئی اور قیمتیں بڑھ گئیں۔
پاکستانی روپے کی قدر میں کمی:
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی تنزلی نے عالمی سطح پر ہونے والے اضافے کو مقامی مارکیٹ میں مزید شدید بنا دیا، یوں پاکستان میں سونے کی قیمتیں عالمی اضافہ سے بھی زیادہ متاثر ہوئیں۔
عالمی مارکیٹ کا رجحان:
عالمی مارکیٹ میں 2025 کے دوران سونے کی فی اونس قیمت 2,624 ڈالر سے بڑھ کر 4,200 ڈالر کے تاریخی لیول تک جا پہنچی۔ اس عالمی تیزی نے براہ راست پاکستان کی مارکیٹ پر اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں نہ صرف قیمتیں بڑھیں بلکہ کئی نئے ریکارڈ بھی قائم ہوئے۔
آئندہ کیا ہوگا؟:
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو سونا مزید مہنگا ہو سکتا ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں رفتار کچھ سست ہونے کا امکان بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو محتاط رہتے ہوئے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنی چاہیے۔