امریکی انٹیلی جنس کا افغان شہریوں سے متعلق بڑا انکشاف

امریکی انٹیلی جنس کا افغان شہریوں سے متعلق بڑا انکشاف

امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا میں مقیم تقریباً دو ہزار افغان شہریوں کے دہشتگرد تنظیموں سے براہ راست یا ممکنہ روابط ہیں، جس سے ملک میں اختیار کیے گئے جانچ پڑتال کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:تلہ گنگ سے افغان شہری کی گرفتاری اور اعترافی بیان نے افغان دہشتگرد نیٹ ورک بے نقاب کردیا

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تلسی گبارڈ نے بائیڈن انتظامیہ کے دور میں افغان شہریوں کی امریکا آمد کے دوران اختیار کیے گئے سست اور ناکافی اسکریننگ عمل پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے بتایا کہ 2021 میں امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد شروع کیے گئے پروگرام ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت تقریباً 18 ہزار افغان شہریوں کو امریکا میں آباد کیا گیا۔

تلسی گبارڈ کے مطابق اس عرصے میں امریکا آنے والے افغان شہریوں کی مناسب جانچ نہیں کی گئی، جس کے باعث سیکیورٹی خلا پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب اس پروگرام کے تحت آنے والے ہر افغان شہری کا ازسرِنو اور باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس عمل میں تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکا آنے والے ہر فرد کی تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق 18 ہزار افغان شہریوں میں سے تقریباً 2 ہزار افراد کے دہشت گرد تنظیموں سے براہ راست یا ممکنہ روابط سامنے آئے ہیں۔ تلسی گبارڈ نے خبردار کیا کہ داعش اور دیگر شدت پسند تنظیمیں اب بھی امریکی سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اور امریکا کے اندر ایسے افراد کی تلاش میں رہتی ہیں جو ان کے لیے یہ کارروائیاں انجام دے سکیں۔

مزید پڑھیں:‏امریکہ : ٹیکساس میں ایک اور افغان شہری کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

انہوں نے کہا کہ ’یہ تنظیمیں مسلسل ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتی ہیں جو امریکا میں حملے کر سکیں، اسی لیے ہم اس خطرے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں‘۔

تلسی گبارڈ نے اس موقع پر یہ بھی نشاندہی کی کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق کمزور سرحدی کنٹرول اور ناکافی جانچ کے نظام نے ممکنہ سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ان انکشافات کے بعد امریکا میں امیگریشن پالیسی، پناہ گزینوں کی آبادکاری اور قومی سلامتی سے متعلق مباحثے میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، خصوصاً افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران کیے گئے فیصلوں کے تناظر میں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *