سولہ دسمبر تک دنیا کے 10 امیر ترین کاروباری شخصیات کی مجموعی دولت 2.5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں سب سے زیادہ توجہ ایلون مسک پر مرکوز ہے، جو ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ہیں اور اب بھی دنیا کے سب سے امیر فرد کے طور پر برقرار ہیں۔
مسک کی دولت اب 638 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جو ان کی سال کے آغاز سے ہونے والی دولت میں 205 ارب ڈالر کے اضافے کا مظہر ہے۔
بلوم برگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق سال کے آغاز سے اب تک دنیا کے ٹاپ 10 امیر ترین افراد کی مجموعی دولت میں 558.9 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ مجموعی طور پر 2.536 ٹریلین ڈالر ہو گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں شامل 10 میں سے 9 ارب پتی امریکی ہیں جبکہ ایک شخص فرانس سے تعلق رکھتا ہے اس کے علاوہ ان میں سے 8 افراد ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں، جو اس صنعت کی عالمی سطح پر طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسرے نمبر پر گوگل کے شریک بانی لیری پیج ہیں جن کی دولت 265 ارب ڈالر ہو گئی ہے اور سال کے دوران ان کی دولت میں 96.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
گوگل کے دیگر شریک بانی سرگے برِن تیسرے نمبر پر ہیں جن کی مجموعی دولت 247 ارب ڈالر جبکہ ان کے اثاثوں میں سال بھر میں 88.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
ایمیزون کے مالک جیف بیزوس چوتھے نمبر پر ہیں، جن کی دولت 246 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی اور انہوں نے رواں سال 7 ارب ڈالر کا اضافہ کیا۔
پانچویں نمبر پر اوریکل کے بانی لیری ایلیسن ہیں، جن کی دولت 238 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور اس دوران ان کے اثاثوں میں 46.1 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
میٹا کے مالک مارک زکربرگ چھٹے نمبر پر ہیں جن کی دولت 229 ارب ڈالر ہو گئی جبکہ فرانسیسی لگژری برانڈ کے مالک برنارڈ آرنو ساتویں نمبر پر ہیں جن کی دولت 202 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح مائیکروسافٹ کے سابق چیف ایگزیکٹو اسٹیو بالمر آٹھویں نمبر پر ہیں جو166 ارب ڈالر رکھتے ہیں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ نویں نمبر پر ہیں ان کے پاس 153 ارب ڈالر ہیں۔دنیا کے معروف سرمایہ کار وارن بفیٹ دسویں نمبر پر ہیں جو152 ارب ڈالر کے مالک ہیں ،ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر شعبے میں حالیہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے باوجود یہ شخصیات اپنی دولت میں مسلسل اضافے کے باعث عالمی معاشی منظر نامے میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔