بھارتی میڈیا نے سڈنی واقعہ کے حملہ آور ساجد اکرم اور نوید اکرم کے بھارتی ہونے کا اعتراف کرلیا

بھارتی میڈیا نے سڈنی واقعہ کے حملہ آور ساجد اکرم  اور نوید اکرم  کے بھارتی ہونے کا اعتراف کرلیا

بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف ایک بار پھر منظم پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے، جب آسٹریلیا کے مشہور بانڈی بیچ پر پیش آنے والے واقعے کو بلا جواز پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم خود بھارتی خبر رساں ادارے پرنٹ کی رپورٹ نے ان تمام الزامات کو غلط ثابت کرتے ہوئے حقائق منظر عام پر لا دیے ہیں اور بھارتی میڈیا کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں نے بانڈی بیچ واقعے میں ملوث شخص کا نام سامنے آتے ہی بغیر تصدیق پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی۔ اسی مہم میں بھارتی اور اسرائیلی میڈیا نے بھی حقائق کے برعکس پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی اور ایک منظم مہم کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

بھارتی خبر رساں ادارے پرنٹ نے اپنی تحقیق میں واضح کیا ہے کہ بانڈی بیچ واقعے میں مارا جانے والا شخص ساجد اکرم بھارتی نژاد تھا اور اس کا پاکستان سے کسی قسم کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق ساجد اکرم کا تعلق بھارت کی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے تھا ۔ پرنٹ کی رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ساجد اکرم کے پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ واقعے میں مارے جانے والے ساجد اکرم کا بیٹا نوید اکرم پیدائشی طور پر آسٹریلوی شہری ہے۔ اس کے باوجود بھارتی میڈیا کی جانب سے جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جو بعد ازاں بے نقاب ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سڈنی دہشتگردی واقعہ میں بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد سامنے آگئے

پرنٹ کے مطابق آسٹریلوی حکام نے اس واقعے کے بعد بھارت سے تفصیلات طلب کیں اور تحقیقات کے دوران پاکستان سے کسی بھی تعلق کا ذکر سامنے نہیں آیا۔ اس پیش رفت نے بھارتی میڈیا کے اس دعوے کو بھی غلط ثابت کر دیا جس میں پاکستان کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

دوسری جانب امریکی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق فلپائنی امیگریشن حکام کا کہناہے کہ حملہ آور ساجد اکرم اور نوید اکرم یکم نومبر 2025 کو فلپائن پہنچے۔ دونوں باپ بیٹے نے سڈنی سے فلپائن کا سفر کیا تھا۔ دونوں ملزمان نے داواؤ شہر میں قیام کیا۔ باپ بیٹا 28 نومبر 2025 کو منیلا سے سڈنی واپس روانہ ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور باپ بیٹے نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا۔ سڈنی میں حملہ داعش سے متاثر ہوکر کیا گیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے سوال کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر مسلح افراد نے شہریوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور40 زخمی ہوگئے تاہم پولیس کی جوابی کارروائی میں فائرنگ کرنے والا ایک شخص مارا گیا اور دوسرے حملہ آور کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘  کے نئے متحرک شرانگیز نیٹ ورک کا انکشاف

Related Articles