وفاقی کابینہ نے پاکستان کے ویزا اور سفری کلیئرنس نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھاتے ہوئے نئے ویزا کلیئرنس سسٹم کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد بیرونِ ملک سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا کے حصول کے عمل کو مزید شفاف، محفوظ اور مؤثر بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق ویزا کلیئرنس نظام میں یہ اصلاحات غیر قانونی ہجرت، جعلی سفری دستاویزات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور مختلف ممالک کی جانب سے داخلی قوانین میں سختی کے تناظر میں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد ممالک نے پس منظر کی جانچ کے عمل کو سخت کیا ہے، جس کے باعث مشتبہ درخواست گزاروں کی ویزا درخواستیں مسترد کیے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت بنانے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ جنوری سے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی اسکریننگ نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس جدید نظام کے تحت جعلی ویزوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے گی اور روانگی سے قبل غیر قانونی سفر کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
حکومتی حکام کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد دھوکہ دہی میں ملوث ایجنٹ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا اور بیرونِ ملک پاکستان کے تشخص کا تحفظ کرنا ہے۔ حکومتی سطح پر اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ جعلی دستاویزات اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث نہ صرف پاکستانی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ویزا نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی یہ کوششیں سابقہ اصلاحات کا تسلسل ہیں۔ اس سے قبل آن لائن ویزا آن ارائیول پلیٹ فارم کے اجرا کے بعد صرف چھ ماہ کے عرصے میں 142 ہزار سے زائد ویزا درخواستوں کی کامیاب پراسیسنگ مکمل کی گئی، جس کے نتیجے میں سیاحتی اور کاروباری سفر کے لیے درخواستوں کا عمل مزید آسان اور تیز تر ہوا ہے۔
علاوہ ازیں وفاقی کابینہ نے اکتوبر اور نومبر کے دوران ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی ہے، تاکہ قانون سازی کے معاملات میں بہتر ہم آہنگی، تسلسل اور پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلے مجموعی طور پر انتظامی اصلاحات اور گورننس کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔