قومی ایکشن پلان موجود، پھر بھی خیبر پختونخوا کو نیا سکیورٹی پلان کیوں درکار؟

قومی ایکشن پلان موجود، پھر بھی خیبر پختونخوا کو نیا سکیورٹی پلان کیوں درکار؟

خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک نیا ’’صوبائی ایکشن پلان تیار کیا ہے” تاہم اس اقدام نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ جب ملک میں پہلے ہی قومی ایکشن پلان نافذ ہے تو صوبے کو ایک الگ سکیورٹی فریم ورک کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ قومی ایکشن پلان کا متبادل نہیں بلکہ اس کی صوبائی سطح پر تفصیلی توسیع ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات، گورننس میں بہتری، قانونی اصلاحات، اطلاعاتی حکمتِ عملی اور سماجی و معاشی ترقی کے پروگراموں کو ایک مربوط نظام کے تحت آگے بڑھانا ہے۔

یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا خصوصاً جنوبی اضلاع اور ضم شدہ قبائلی علاقے دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے اور سکیورٹی ادارے مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔

دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ

اسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران ملک بھر اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا۔

سال 2022 میں پاکستان میں دہشت گردی کے 512 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 980 افراد جانبحق اور 750 زخمی ہوئے۔ ان میں سے 313 حملے خیبر پختونخوا میں ہوئے جہاں 633 افراد جان سے گئے اور 420 زخمی ہوئے۔

سال 2023 میں حملوں کی تعداد بڑھ کر 789 ہو گئی جبکہ 1,533 افراد جانبحق اور 1,462 زخمی ہوئے۔ اس سال خیبر پختونخوا میں 458 حملے ریکارڈ کیے گئے۔

سال 2024 میں دہشت گردی مزید شدت اختیار کر گئی اور ملک بھر میں 1,166 حملوں میں 2,546 افراد جانبحق اور 2,267 زخمی ہوئے۔ صوبے میں 693 حملے ہوئے جن میں 1,616 افراد جان سے گئے اور 1,037 زخمی ہوئے۔

سال 2025 میں صورتحال مزید خراب ہوئی اور ملک بھر میں 1,272 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 3,417 افراد جانبحق اور 2,134 زخمی ہوئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 795 حملوں کے نتیجے میں 2,331 افراد جان سے گئے اور 1,206 زخمی ہوئے۔

دو برس میں 2,359 دہشت گرد کارروائیاں

خیبر پختونخوا کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے 6 اپریل 2026 تک صوبے میں دہشت گردی کی مجموعی طور پر 2,359 کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں۔

ان میں 1,265 فائرنگ کے واقعات، 365 آئی ای ڈی دھماکے، 244 ٹارگٹ کلنگ، 181 دستی بم حملے، 125 اغوا برائے تاوان کے واقعات اور 22 خودکش حملے شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردوں نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھا دیا ہے۔ اسی عرصے میں 156 ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں سے 80 حملے صرف 2025 میں جبکہ 77 حملے 2026 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران ہوئے۔

خیبرپختونخوا میں شدت پسندوں کی تعداد

موجود دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے 16 ہزار 425 شدت پسندوں کی پروفائلنگ کی جاچکی ہے، تاہم ان کے خلاف کارروائیوں میں مئی 2026 تک 4 ہزار 500 شدت گرفتار اور 1 ہزار 346 ہلاک کئے جاچکے ہیں ۔

اس کے ساتھ ساتھ 2 ہزار 448 سہولتکاروں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن میں سے 251 سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں، سب سے زیادہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے 92 اور محکمہ صحت کے 12 ملازمین شامل ہیں۔ مئی 2026 تک 158 سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی شروع کی جا چکی تھی جنہیں حلف نامے پر مشتمل پروفارمہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ شدت پسندوں کی کسی قسم کی معاونت بھی نہیں کریں گے۔ تاہم سہولتکاروں میں سے 95 سہولتکار گرفتار کیے گئے ہیں۔

فورتھ شیڈول اور مالیاتی پابندیاں

حکومت نے 337 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا ہے جن میں 233 شدت پسند اور 104 سہولت کار شامل ہیں۔ ( شیڈول فور میں ان افراد کو تین سال کیلئے شامل کیا جاتا ہے جو ڈسٹرکٹ انٹیلجنس کمیٹی کی جانب سے محکمہ ہوم کو ریفر کئے جاتے ہیں)، علاوہ ازیں 255 شدت پسندوں اور 9 سہولت کاروں کی اثاثوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ 739 منقولہ اثاثے ضبط کیے گئے جبکہ 528 افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ یا بلاک کیے گئے ہیں۔

سی ٹی ڈی کی صلاحیت پر سوالات

دوسری جانب سرکاری دستاویزات خود اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انسداد دہشت گردی محکمہ وسائل کی شدید کمی کا شکار ہے۔

دستاویزات کے مطابق سی ٹی ڈی کی مجموعی نفری 3,844 اہلکاروں پر مشتمل ہے، تاہم ان میں صرف 25 مستقل ملازمین ہیں جبکہ باقی اہلکار پولیس سے ڈیپوٹیشن پر تعینات کیے گئے ہیں۔

صوبے بھر میں سی ٹی ڈی کے 21 ضلعی دفاتر مستقل عمارتوں کے بغیر کام کر رہے ہیں جبکہ فیلڈ آپریشنز کے لیے صرف 17 ڈبل کیبن بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب ہیں۔

محکمے کے پاس جدید فرانزک لیبارٹری، سیل لوکیٹرز، سگنل جیمرز اور بھاری بکتر بند گاڑیوں جیسی بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان انسپکٹر محمد علی کے مطابق پولیس فورس ایک ہی فورس ہے تاہم سی ٹی ڈی اس کا وونگ ہے جہاں پر اہلکاروں کی تعیناتیاں ہوتی رہتی ہے اس کے ساتھ ساتھ مستقل ملازمین کی تقرریوں کا عمل بھی جاری ہے۔

قومی اور صوبائی منصوبے میں فرق کیا ہے؟

صوبائی حکام کے مطابق نیا صوبائی ایکشن پلان قومی ایکشن پلان کی جگہ نہیں لے گا بلکہ صوبائی سطح پر مختلف محکموں کی ذمہ داریوں کو واضح کرے گا اور عملدرآمد کے نظام کو مؤثر بنائے گا۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو کوئی الگ آئینی یا قانونی اختیار حاصل نہیں ہوگا اور اس کی کامیابی کا انحصار اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور عملی نفاذ پر ہوگا۔

اس وقت صوبائی محکموں کی جانب تعاون ہوتا ہے لیکن وفاقی محکمے کسی بھی ہدایات پر عملدرامد نہیں کررہی ہے جس کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ وفاقی محکمے بھی اس سلسلے میں تعاون کریں۔

متاثرین کی نظر میں اصل سوال

دہشت گردی کے متاثرین کے لیے تاہم اصل اہمیت کسی نئے منصوبے کے اعلان سے زیادہ اس کے نتائج کی ہے۔

پشاور پولیس لائنز مسجد دھماکے میں اپنے بھائی کو کھونے والے کاشف خان کہتے ہیں کہ انہیں حکومتی منصوبوں کی تفصیلات کا علم نہیں، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ مزید خاندان اس درد سے نہ گزریں جس کا سامنا ان کے خاندان نے کیا۔

Related Articles