وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کی جانب سے لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات پر تاریخی اور اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے نئی دہلی کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔
پی ایم اے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ بھارت بغیر کسی ٹھوس ثبوت اور تحقیقات کے پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال پہلگام کا حالیہ واقعہ ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بھارت کو ایک بار پھر غیر مشروط پیشکش کی کہ وہ پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کروائے تاکہ حقائق دنیا کے سامنے آ سکیں۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ شہباز شریف نے بھارت کے آبی جارحیت کے عزائم کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے، کم کرنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور فوجی طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری بہادر مسلح افواج ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے انکوائری کی پیشکش نے پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ثابت کیا ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے اس پیشکش سے گریز اسے عالمی سطح پر مزید رسوا کر سکتا ہے۔
پہلگام کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب بھارت کے اندرونی حالات اور انتہا پسندی پر عالمی برادری سوالات اٹھا رہی تھی۔ ماضی کی طرح، بھارتی قیادت نے بغیر کسی تحقیقات کے اس واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی تاکہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال سکے۔
پی ایم اے کاکول میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ خطاب دراصل پاکستان کی اس نئی دفاعی اور سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس میں ’پہلے سے جواب‘ دینے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشنز کا مقصد اکثر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف یا دیگر عالمی فورمز پر دباؤ میں لانا ہوتا ہے، تاہم وزیراعظم کی جانب سے شفاف تحقیقات کی دستاویزی پیشکش نے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آج تک کی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی اس اصولی پالیسی کی بدولت بھارتی پروپیگنڈے کی عالمی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔