وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر شدید بحث و مباحثے کا مرکز بن گیا ہے، جسے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم حقائق کے مطابق کیرولین لیوٹ کا یہ بیان کسی حقیقی واقعے کے بجائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخصوص طرزِ گفتگو اور ان کے طنزیہ جملوں کی طرف ایک استعاراتی اشارہ تھا۔
واضح رہے کہ تقریب سے قبل امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیرولین لیوٹ نے کہا تھا کہ ’آج رات ہال میں کچھ گولیاں چلیں گی‘۔ ان کے اس جملے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی تقریر میں مخالفین پر تند و تیز جملوں اور طنز کے بھرپور وار کریں گے۔
بدقسمتی سے تقریب کے دوران جب سیکیورٹی الرٹ کے باعث ہال میں افراتفری پھیلی اور فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں، تو سوشل میڈیا صارفین نے کیرولین لیوٹ کے اس بیان کو ’پہلے سے طے شدہ منصوبے‘ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔
وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریس سیکریٹری محض صدر کے سیاسی اندازِ گفتگو کی ترجمانی کر رہی تھیں۔
وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر ایک ایسی تقریب ہے جہاں امریکی صدر اور میڈیا کے درمیان طنز و مزاح کا تبادلہ ایک روایت رہی ہے۔
تاہم 25 اپریل 2026 کو ہونے والی یہ تقریب امریکی تاریخ کے ایک حساس ترین دور میں منعقد ہوئی، جب امریکا ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور داخلی سیاسی تقسیم کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
ایسے ماحول میں پریس سیکریٹری کی جانب سے ’گولیاں چلنے‘ جیسے الفاظ کا استعمال، چاہے وہ سیاسی استعارہ ہی کیوں نہ ہو، عوامی سطح پر تشویش کا باعث بنا۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں حساس الفاظ کا انتخاب غلط فہمیوں کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر جب تقریب میں حقیقی سیکیورٹی خطرہ پیدا ہو جائے۔ کیرولین لیوٹ کا یہ انٹرویو دراصل صدر ٹرمپ کی اس ’جارحانہ سیاست‘ کی عکاسی کر رہا تھا جس کے لیے وہ مشہور ہیں، لیکن حالات کے جبر نے اسے ایک متنازع بیان میں تبدیل کر دیا۔