حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان 730 ملین ڈالر مالیت کے دو ترقیاتی منصوبوں پر دستخط ہوگئے ہیں ان منصوبوں کو توانائی کے شعبے میں بہتری اور اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدوں کا مقصد نہ صرف ملک میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو مستحکم بنانا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی کارکردگی، شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو بھی بہتر بنانا ہے،اقتصادی امور ڈویژن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت مستقبل میں مکمل ہونے والے پن بجلی کے مختلف منصوبوں سے پیدا ہونے والی تقریباً 2 ہزار 300 میگاواٹ بجلی کو قومی گرڈ میں قابل اعتماد اور موثر انداز میں منتقل کیا جا سکے گا۔
یہ منصوبہ بجلی کی ترسیل میں رکاوٹوں کو کم کرنے، لائن لاسز گھٹانے اور توانائی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا،ا یک اورمنصوبے 400 ملین ڈالر مالیت کے سرکاری ملکیتی اداروں کے ٹرانسفارمیشن پروگرام پر بھی دستخط کیے گئے ہیں،اس پروگرام کے ذریعے ایس او ای ایکٹ اور متعلقہ پالیسی پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا جس سے سرکاری اداروں کی گورننس، انتظامی صلاحیت اور مالی شفافیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ان اصلاحات کا مقصد خسارے میں چلنے والے اداروں پر بوجھ کم کرنا اور انہیں قومی معیشت کے لیے زیادہ مؤثر بنانا ہے اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فان نے ان اقدامات پر حکومت پاکستان کے مضبوط عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات ملک کی پائیدار ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہ سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات کا یہ پروگرام حکومت کی مجموعی اصلاحاتی کوششوں کو مزید تقویت دے گا اور معیشت میں استحکام پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
معاہدے پاکستان کے لیے نہ صرف توانائی کے تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے اہم ہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعتماد کا بھی مظہر ہیں جو مستقبل میں مزید سرمایہ کاری اور تعاون کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں۔