بھارت میں مسیحیوں پر تشدد، دھروو راٹھی نے مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بھارت میں مسیحیوں پر تشدد، دھروو راٹھی نے مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بھارت میں کرسمس کے موقع پر ہندو انتہا پسند عناصر کی جانب سے مسیحی برادری کو ہراساں کیے جانے کے واقعات پر معروف بھارتی یوٹیوبر اور سماجی کارکن دھروو راٹھی نے کھل کر آواز اٹھا دی ہے۔ انہوں نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے نہ صرف سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کیں بلکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی براہِ راست سوال کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر دھروو راٹھی نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے عیسائی کمیونٹی کو ہراساں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دھروو راٹھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو مینشن کیا اور سخت لہجے میں سوال اٹھایا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہیلو نریندر مودی، کیا آپ اس معاملے پر خود کوئی کارروائی کریں گے یا آپ ٹرمپ کی ڈانٹ کا انتظار کر رہے ہیں؟‘‘

دھروو راٹھی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ امریکی حکومت کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ بھارت میں عیسائیوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کرسمس جیسے مذہبی تہوار پر مسیحی برادری کو تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا ایک سنگین معاملہ ہے، جس پر خاموشی قابلِ قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ نےسمگلنگ میں ملوث بھارتی کاروباری شخصیات کے ویزے منسوخ کردئیے

یاد رہے کہ بھارت میں کرسمس کے موقع پر مختلف علاقوں میں ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے مسیحی برادری کے خلاف تشدد اور ہنگامہ آرائی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بھارتی شہر رائے پور میں کرسمس کی تقریب کے لیے کی گئی سجاوٹ کو تہس نہس کرنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے، جبکہ شاپنگ مال میں سجی کرسمس کی سجاوٹ کو بھی انتہا پسندوں نے نقصان پہنچایا۔

اسی طرح ریاست آسام میں بجرنگ دل سے وابستہ انتہا پسندوں نے کرسمس کی سجاوٹ کو آگ لگا دی۔ اتر پردیش میں گرجا گھر کے باہر نعرے بازی کی گئی، جبکہ مدھیہ پردیش میں انتہا پسند عناصر نے گرجا گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور نعرے لگائے۔ ان واقعات کے بعد بھارت میں اقلیتی برادری کے تحفظ اور مذہبی آزادی پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

Related Articles