ہم چاہتے تو بھارت کے سارے جہاز گرا سکتے تھے،دوباہ جنگ مسلط کی توناکوں چنے چبوا دیں گے،آصف زرداری

ہم چاہتے تو بھارت کے سارے جہاز گرا سکتے تھے،دوباہ جنگ مسلط کی توناکوں چنے چبوا دیں گے،آصف زرداری

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے گڑھی خدا بخش میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط، خوددار اور ناقابلِ تسخیر ملک ہے جس کی بنیاد قربانی، جرات اور شہادت کے جذبے پر رکھی گئی ہے۔

ہم بھارت کے زیادہ جہاز گراسکتے تھے لیکن تھوڑا رحم کیا ، بھارت نے دوبارہ جنگ مسلط کی تو ناکوں چنے چبوا دیں گے،آصف زرداری نے مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دل گردہ کہاں سے لائو گے جو ہمارے فیلڈ مارشل کا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو آبادی اور وسائل کے لحاظ سے بڑا ملک قرار دیتا ہے مگر اصل طاقت بہادری، حوصلے اور قیادت کے عزم میں ہوتی ہے جو پاکستان کے پاس موجود ہے۔صدر زرداری نے کہا کہ ہماری افواج نے ماضی میں دشمن کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسا موثر جواب دیا کہ انہیں یہ حقیقت سمجھ آ گئی کہ پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کوئی کھیل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :صدر آصف زرداری کا سی ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ، فوجی جوانوں، متاثرہ شہریوں کی عیادت

انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کی جانب سے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ نہ کیا جاتا تو دشمن کو اس سے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا۔
پاک فضائیہ کے جوانوں کی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا دن بلاشبہ ایک بڑا صدمہ تھا مگر اسی دن “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگا کر یہ پیغام دیا گیا کہ یہ ملک ہمیشہ قائم رہے گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ ہم جنگ مسلط کرنے کے خواہاں نہیں، لیکن اگر کسی نے جارحیت کی تو پوری قوم، افواج اور قیادت ایک صف میں کھڑی ہو کر دفاع کرےگی آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کے عوام شہادت کو اعزاز سمجھتے ہیں اور یہی جذبہ ہماری سب سے بڑی طاقت
ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ قیادت، افواج اور عوام ملک کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں اور کوئی بھی دشمن پاکستان کے عزم کو کمزورنہیں کر سکتا۔ایک بیوقوف شخص نے معیشت تباہ کردی تھی اور دنیا سے تعلقات خراب کردئیے تھے ہم نے دوبارہ تعلقات ٹھیک کیے فیلڈ مارشل ہمارے ساتھ ساتھ ہیں ۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *