معرکہ حق میں بھارت کو عبرتناک شکست، 7 طیارے گرائے، عالمی سطح پرپاکستان کی صلاحیت کو تسلیم کیا گیا، اسحاق ڈار

معرکہ حق میں بھارت کو عبرتناک شکست، 7 طیارے گرائے، عالمی سطح پرپاکستان کی صلاحیت کو تسلیم کیا گیا، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور نائب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے معرکۂ حق میں بھارت کو عبرت ناک شکست دی، پاکستانی افواج نے دشمن کے 7 جنگی طیارے مار گرائے اور ایک کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ بھارت کی جانب سے 36 گھنٹوں میں بھیجے گئے 80 ڈرونز میں سے 79 کو کامیابی سے نیوٹرلائز کر دیا گیا۔

ہفتہ کے روز سالانہ نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ طیارے گرائے جانے کے بعد بھارت مسلسل غلط بیانی کرتا رہا، بھارت نے پہلگام واقعے سے متعلق پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے، تاہم عالمی برادری نے پاکستان کے مؤقف کو سنا اور اسے بھرپور پذیرائی ملی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے کسی کو یہ نہیں کہا کہ وہ ہماری بھارت سے صلح صفائی کروائے۔ انہوں نے کہا کہ 4 روزہ جنگ میں پاکستانی افواج نے بھارتی دعوؤں کو پاش پاش کر دیا اور دنیا نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو تسلیم کیا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرخارجہ اسحاق ڈارکا ایران اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، اہم امور پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے پاکستان نے جتنا کیا وہ کافی تھا، ورنہ اس سے کہیں زیادہ جواب دیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ سندھ طاس معاہدہ ایک حقیقت ہے اور اسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ معرکۂ حق کے بعد پاکستان کے وقار میں نمایاں اضافہ ہوا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا اور عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مضبوط ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر اور میزائل پروگرام نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے اور ہم نے اپنے دفاع کو مضبوط ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے حل تک خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک معاشی قوت بنے گا اور جب پاکستان مضبوط معیشت بنے گا تو مسلم اُمہ کی قیادت بھی کرے گا۔

نائب وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ بھارت نے نور خان ایئر بیس پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی، جس کے جواب میں پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کی، بھارت کے حملے کے بعد پاکستان کو جواب دینے کا پورا حق حاصل تھا۔

اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات کے صدر کے دورۂ پاکستان کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تجارتی اور دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی بات چیت مثبت رہی اور تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب پی ڈی ایم نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار تھا، مگر آج پاکستان عالمی سطح پر ایک مضبوط اور باوقار ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے، جو اپنی خود مختاری، سلامتی اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:معرکہ حق میں عبرتناک شکست کے بعد بھارتی فوج عالمی منظرنامہ پر مذاق بن کر رہ گئی

نائب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کو مشکل معاشی حالات میں دوست ممالک کی بھرپور معاونت حاصل رہی ہے، سعودی عرب نے مسلسل تعاون کیا، چین نے 4 ارب ڈالر اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ ڈپازٹ کی صورت میں مدد فراہم کی جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی معاونت ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ 1 ارب ڈالر کے معاملے پر باضابطہ انگیجمنٹ جاری ہے جو پہلے رول اوور کی گئی رقم سے متعلق ہے اور اب نئے مالی بندوبست کے تحت طے کی جا رہی ہے۔

نائب وزیر اعظم کے مطابق فوجی فاؤنڈیشن گروپ کے شیئرز کے حوالے سے بھی تفصیلی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے واقعات کے تناظر میں وزارت خارجہ مسلسل متحرک رہی اور بھارت کے بیانیے کا مؤثر جواب دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی اور زمینی حقائق بدلنے کا مؤقف عالمی معاہدوں کے منافی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نو مئی کی رات وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں سول اور ملٹری قیادت کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ ان کے مطابق ڈرونز بھیجنا اور جارحانہ طرز عمل بھارت کی بڑی غلطی تھی، جس کے بعد پاکستان نے دفاعی کارروائی کی اور بین الاقوامی برادری کو واضح کیا گیا کہ پاکستان کشیدگی نہیں بڑھائے گا لیکن جواب ضرور دے گا۔

نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے حملوں اور ڈرونز سے متعلق دعوے جھوٹ ثابت ہوئے اور تصدیق کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کا کوئی ڈرون بھارتی حدود میں داخل نہیں ہوا، جس سے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے شفافیت کے ساتھ کارروائی کی اور اللہ کے فضل سے ملک کی عزت میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج، ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیت مضبوط ہے اور پاکستان امن کا خواہاں ملک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں، بھارت کی جانب سے آئینی تبدیلیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پاکستان مذمت کرتا ہے اور اس معاملے کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت، بھارت نئے اسرائیلی میزائل خریدنے کیلئے کوشاں

نائب وزیر اعظم کے مطابق پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور شفاف طریقے سے آف شور اور آن شور بلاکس کی ایکسپلوریشن شروع ہو چکی ہے، جس میں غیر ملکی کمپنیوں کی دلچسپی بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، چین اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری، کاؤنٹر ٹیررازم تعاون، ٹیرف میں کمی اور معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے معاہدوں کا بھی ذکر کیا۔ یورپی یونین کے ساتھ 4 سال بعد سٹریٹیجک ڈائیلاگ کی بحالی اور جی ایس پی پلس کے تسلسل کے لیے کوششوں کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتکاری نے خطے اور عالمی سطح پر مثبت نتائج دیے ہیں اور آئندہ بھی معاشی استحکام اور علاقائی امن کے لیے یہ کوششیں جاری رہیں گی۔

Related Articles