اسلام آباد میں ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنانے اور شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی مؤثر نگرانی کے لیے حکومت نے یکم جنوری سے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس اقدام کا مقصد نہ صرف ٹریفک مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے بلکہ سکیورٹی، قانون نافذ کرنے اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کے مطابق یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایات پر کیا گیا ہے جس کے تحت اب شہر میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کے لیے ایم ٹیگ کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف باقاعدہ کارروائیاں کی جائیں گی اور اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ڈی سی اسلام آباد کا کہنا ہےکہ ایم ٹیگ کے اجرا کے لیے شہر بھر میں 16 مختلف مقامات پر سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں شہری باآسانی اپنی گاڑیوں کے لیے ایم ٹیگ حاصل کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق 14 نومبر سے اب تک تقریباً ایک لاکھ گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے جا چکے ہیں جو اس منصوبے کی کامیابی اور عوامی تعاون کا واضح ثبوت ہے۔
عرفان میمن کا کہنا تھا کہ بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کی نشاندہی کے لیے جدید ٹیگ ریڈرز نصب کیے گئے ہیں جو شہر کے مختلف انٹری پوائنٹس اور ناکہ جات پر کام کریںگے۔
یہ ریڈرز خودکار طریقے سے گاڑیوں کے ایم ٹیگ اسکین کریں گے اور جن گاڑیوں پر ایم ٹیگ موجود نہیں ہوگاان کی فوری شناخت ممکن ہو سکے گی۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق یکم جنوری سے یہ ٹیگ ریڈرز مکمل طور پر فعال کر دیے جائیں گے جس کے بعد بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے شہر میں داخلے پر سختی سے پابندی نافذ ہو جائے گی۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت ایم ٹیگ حاصل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی یا قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔