سرکاری افسروں کی شاہانہ مراعات، ایک افسر کی ماہانہ تنخواہ ڈیڑھ کروڑ روپے سے تجاوز، ہوشربا اعداد و شمار جاری

سرکاری افسروں کی شاہانہ مراعات، ایک افسر کی ماہانہ تنخواہ ڈیڑھ کروڑ روپے سے تجاوز، ہوشربا اعداد و شمار جاری

پاکستان کے سرکاری اداروں میں تعینات اعلیٰ افسران اور سربراہان کی شاہانہ تنخواہوں سے متعلق حیران کن تفصیلات سامنے آگئی ہیں جنہوں نے عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے

رپورٹس کے مطابق بعض سرکاری و نیم سرکاری مالیاتی اداروں کے سربراہان ماہانہ ایک کروڑ روپے سے زائد تنخواہیں وصول کر رہے ہیں جبکہ انہیں اضافی مراعات اور الاؤنسز بھی دیے جا رہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی ماہانہ تنخواہ ایک کروڑ 53 لاکھ 78 ہزار روپے سے زائد ہے جو اس فہرست میں سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

اسی طرح پاک اومان انویسٹمنٹ کمپنی کے ایم ڈی ایک کروڑ 28 لاکھ 84 ہزار روپے جبکہ پاک ایران انویسٹمنٹ کمپنی کے سربراہ 97 لاکھ 16 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم کا دکانوں اور مارکیٹوں کے بندش سے متعلق نیا حکم جاری

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر کی تنخواہ 90 لاکھ روپے ماہانہ ہے جبکہ پاک لیبیا ہولڈنگ کمپنی کے ایم ڈی 88 لاکھ 17 ہزار روپے وصول کر رہے ہیں۔

اسی طرح زرعی ترقیاتی بینک کے صدر کی تنخواہ ساڑھے 54 لاکھ روپے پرال کے سی ای او کی 52 لاکھ روپے اور ایگزم بینک کے سربراہ کی تنخواہ 50 لاکھ روپے ماہانہ بتائی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر 40 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں جبکہ پاکستان سنگل ونڈو کے سی ای او کو ساڑھے 26 لاکھ روپے اور اضافی الاؤنس بھی دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی اداروں کے سربراہان کو بنیادی تنخواہ کے علاوہ رہائش، گاڑی، میڈیکل، سفری سہولیات اور خصوصی الاؤنسز سمیت بھاری مراعات بھی حاصل ہیں، جس پر عوامی و معاشی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

editor

Related Articles