پنجاب حکومت نے صوبے کے کاشتکاروں کو معاشی طور پر مضبوط بنانے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی ٹریکٹر اسکیم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
اس اسکیم کا مقصد کسانوں کو جدید زرعی مشینری کی سہولت فراہم کرنا، ان کی محنت کو آسان بنانا اور زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔ حکومتی سطح پر اس اقدام کو کسان دوست پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹریکٹر اسکیم کے پہلے مرحلے میں 50 سے 75 ہارس پاور کے دس ہزار ٹریکٹرز کاشتکاروں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اس مرحلے کی تکمیل پر کسانوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور حکومت پنجاب کی اس کاوش کو سراہا۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ذاتی ٹریکٹر کی فراہمی سے انہیں زمین کی تیاری، بوائی اور دیگر زرعی سرگرمیوں میں نمایاں سہولت حاصل ہو گی۔
حکام کے مطابق اسکیم کے دوسرے مرحلے میں 75 سے 85 ہارس پاور کے مزید دس ہزار ٹریکٹرز قرعہ اندازی کے ذریعے کاشتکاروں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس مرحلے میں بھی شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ مستحق کسانوں تک سہولت پہنچ سکے۔ اس کے علاوہ اسکیم کے تیسرے مرحلے کا آغاز جنوری سے کیا جائے گا، جس کے تحت 50 سے 55 ہارس پاور کے ٹریکٹرز کے لیے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔
پروگرام کے تحت ایک اور اہم اقدام کے طور پر 100 سے 120 ہارس پاور کے طاقتور ٹریکٹرز کاشتکاروں کو بلا سود قرض کی بنیاد پر فراہم کیے جائیں گے، تاکہ بڑے رقبے پر کاشت کرنے والے کسان بھی جدید مشینری سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس اقدام کو زرعی شعبے کی طویل المدتی بہتری کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ یہ ٹریکٹر اسکیم کاشتکاروں کی معاشی خود مختاری اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کسان اپنے ذاتی ٹریکٹر کے مالک بن سکیں گے، جس سے انہیں فصل کی بوائی سے لے کر کٹائی اور فروخت تک ہر مرحلے میں سہولت حاصل ہو گی۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت عملی طور پر کسانوں کا سہارا بن رہی ہے اور جدید زرعی مشینری کی فراہمی سے پنجاب ایک خود کفیل زرعی صوبہ بننے کی جانب تیزی سے آگے بڑھے گا۔
حکام کے مطابق اس اسکیم کے ذریعے جدید ٹریکٹرز کی دستیابی سے زمین کی بہتر کھیتی، وقت کی بچت اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ حکومت کی مجموعی حکمت عملی کا مقصد کسانوں کی زندگی کو آسان بنانا اور زرعی شعبے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے، تاکہ صوبے کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔