پاکستانی فوج کے ایک افسر ’کیپٹن عمران علی‘ کے مبینہ کورٹ مارشل سے متعلق وائرل سوشل میڈیا پوسٹ کو بڑے پیمانے پر جھوٹی خبر قرار دے دیا گیا ہے، کیونکہ اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد سامنے نہیں آ سکے، جس کے بعد اسے ایک سیاسی جماعت کی جانب سے پھیلایا جانے والا جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔
جمعرات یکم جنوری 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ بھگوڑے یوٹیوبر شہباز گلِ کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے ، جسے اس نے جیوپولیٹکس اور دفاع سے متعلق ایک اکاؤنٹ سے شیئر کیا ہے۔ ویڈیو میں اردو زبان میں ایک نیوز بلیٹن کے طرز پر تیار کردہ ویڈیو شامل ہے، جس میں شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ افسر نے 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران فائرنگ کے احکامات ماننے سے انکار کیا، جس پر اسے گرفتار کر کے سزا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:عمران ریاض،عادل راجہ ،صابر شاکر، شہزاد اکبر، شہباز گل فوج مخالف بیانہ بناکر بھارت کو خوش کررہے، مزمل سہروردی
آزاد فیکٹ کی تحقیق کے مطابق معتبر میڈیا اداروں، سرکاری فوجی ذرائع اور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے بیانات کی جامع جانچ پڑتال میں نہ تو کسی ایسے کورٹ مارشل کی تصدیق ہوئی اور نہ ہی ’کیپٹن عمران علی‘ نامی کسی افسر کے وجود کا کوئی ثبوت ملا ہے۔
Capitan Imran Ali court Marshall pic.twitter.com/ikQUi1fAso
— THE UNKNOWN MAN (@Theunk13) January 1, 2026
فیکٹ چیکنگ سے وابستہ اکاؤنٹس آزاد فیکٹ چیک نے فوری طور پر اس کہانی کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ویڈیو اور بے ترتیب خود ساختہ تصویر اور جعلی دستاویزات کے ذریعے جعلی اور جھوٹی خبر پھیلائی گئی ہے۔
Fact Checked. https://t.co/k2sInaZ1ik
— Azaad Fact Check (@azaadfactcheck) January 1, 2026

