ایران کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے اور اس کی کرنسی کی قدر حیرت انگیز حد تک گر چکی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق عالمی معاشی پابندیوں کے باعث ایران شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکا ہے اور اس کی کرنسی کی قدر اتنی گر چکی ہے کہ 14 لاکھ ریال صرف ایک امریکی ڈالر کے مساوی ہو گئے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی کی کرنسی کم ترین سطح پر آنے کا مطلب ایرانی ریال کی قدر تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ریال میں یہ نمایاں کمی پابندیوں اور علاقائی کشیدگیوں کے درمیان ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ایران میں مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایرانی ریال کی قیمت میں نمایاں کمی کے بعد ایران کے سینٹرل بینک کے ہیڈ محمد رضا فرزین 29 دسمبر کو مستعفی ہو چکے ہیں جب کہ تہران اور کئی دیگر شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب موجودہ صورتحال میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین سے نرم رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مظاہرین کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کریں تاکہ مسائل کا جلد حل نکالا جا سکے۔
امریکا کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں نے ایران کے سب سے بڑے ریونیو سورس، تیل کی برآمدات کو بری طرح متاثر کیا ہے، کیونکہ ایران تیل فروخت نہیں کر پا رہا ہے اور اسے غیر ملکی کرنسی نہیں مل رہی ہے۔
یہ صورتحال عالمی سرمایہ کاروں اور ایرانی شہریوں کا اپنی قومی کرنسی ریال اور ملک کے معاشی استحکام پر شدید بے اعتمادی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران کو بین الاقوامی بینکنگ سسٹم (جیسے سویفٹ) سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے غیر ملکی تجارت اور لین دین تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک ہمیں جھکانا چاہتے ہیں،ایرانی صدر

