ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک کے ساتھ ایک ہمہ جہت اور غیر روایتی جنگ کی حالت میں ہے تاہم اس کے باوجود ایران فوجی اور دفاعی لحاظ سے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں ایرانی صدر نے واضح کیا کہ عالمی طاقتیں ایران کو دباؤ میں لا کر جھکانا چاہتی ہیں مگر ایرانی قوم نے ہمیشہ بیرونی دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا، اسرائیل اور بعض یورپی ممالک کی کوشش ہے کہ ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کیا جائے تاکہ داخلی انتشار کے ذریعے ملک کو کمزور کر کے دوبارہ حملے کا جواز بنایا جا سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دشمن قوتیں سیاسی، معاشی اور سکیورٹی محاذوں پر بیک وقت ایران کے خلاف سرگرم ہیں اور سوشل میڈیا، سائبر حملوں اور اقتصادی پابندیوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایرانی صدرنے کہا کہ موجودہ صورتحال ایران، عراق جنگ سے بھی زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے کیونکہ اس بار محاذ صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی، معاشی اور اطلاعاتی جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے، انہوں نے کہا کہ ایران نے ان حالات میں نہ صرف اپنے دفاعی نظام کو جدید بنایا ہے بلکہ خطے میں اپنی اسٹریٹجک صلاحیتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئندہ پیر کو اسرائیلی وزیراعظم کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے اہم ملاقات متوقع ہے جس میں ایران سے متعلق امور، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ آئندہ حکمت عملی پر بات چیت ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، اس ملاقات کے تناظر میں ایرانی صدر کا بیان سفارتی دباؤ کے جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں 12 روزہ شدید فضائی جنگ کے دوران ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے کیے گئے تھے، جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1100 ایرانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان حملوں میں اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور جوہری پروگرام سے وابستہ اہم سائنس دان بھی شامل تھے، جسے ایران نے اپنی قومی سلامتی پر براہ راست حملہ قرار دیا۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل حملے کیے، جن کے نتیجے میں اسرائیل میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی تلقین کی جاتی رہی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، مگر اپنے دفاع اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ بھی نہیں کرے گا۔